اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات ختم نہیں ہونے چاہیے تھے، مذاکرات کی میز سے اٹھنا نہیں چاہیے تھا، بات چیت کے بعد باہر آکر بیانات دینا اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کے مترادف ہے۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ مذاکرات کی میز پر بیٹھنا آسان نہیں تھا، بڑی مشکل سے مذاکرات شروع ہوئے تھے، اس لیے کسی کو بھی مذاکرات ختم کرنے کا فیصلہ نہیں کرنا چاہیے تھا۔ ہماری طرف سے مذاکرات جاری رکھنے کی کوشش کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ ملک، قوم اور جمہوریت کے لیے مذاکرات کا کامیاب ہونا انتہائی ضروری ہے۔ اس وقت خیبرپختونخوا کے حالات سنگین ہیں، ملک غیر آئینی، غیر قانونی اور عوام کی مرضی کے بغیر کسی صورتحال کا متحمل نہیں ہو سکتا، ہر حال میں مذاکرات کے ذریعے بہتری کی طرف جانا چاہیے۔پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ہنگامی حالت نافذ نہیں ہونی چاہیے، معاملات اچھے طریقے سے حل ہونے چاہئیں۔ ہمارے مطالبات بہت سادہ تھے، بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور بشریٰ بی بی سے ملاقات کے مطالبات تھے۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے بلڈ پریشر اور ڈاکٹر کی ملاقات کا ذکر مذاکرات کے دوران ہوا تھا۔ یہ کہنا مناسب نہیں کہ باہر آکر اس معاملے کو بتانے سے منع کیا گیا تھا۔ ڈاکٹر اگست میں آیا تھا اور اس نے بانی پی ٹی آئی کا معائنہ کیا تھا، میں نے پارٹی کے اہم لوگوں اور خاندان کو بھی اس بارے میں بتایا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: بیرسٹر گوہر کی سینیٹر راجہ ناصر عباس سے ملاقات، سیاسی صورتحال پر مشاورت
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے مذاکرات کے لیے شرط رکھی تھی، تاہم ہم نے پہلے ہی فیصلہ کرلیا تھا کہ حکومت کی جانب سے پیشکش آئے گی تو ہم غیر مشروط طور پر مذاکرات کی میز پر بیٹھیں گے۔ سیاسی معاملات میں فریقین بغیر شرط کے بیٹھتے ہیں، بات چیت کرتے ہیں اور حل نکلنے تک مذاکرات جاری رہنے چاہئیں۔بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ مذاکرات ہونے چاہئیں اور بغیر کسی شرط کے ہونے چاہئیں۔ رابطہ ہوتا رہتا ہے، لیکن رابطہ مؤثر اور نتیجہ خیز ہونا چاہیے۔ مذاکرات کی اندرونی باتیں باہر زیر بحث آنے لگیں تو وقت ایک دوسرے کو جواب دینے اور پریس کانفرنسوں میں گزر جاتا ہے۔لانگ مارچ کے حوالے سے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ اسلام آباد ہمارا ہے، لانگ مارچ یہاں کیوں نہیں پہنچے گا۔ لانگ مارچ اپنے شیڈول کے مطابق 11 یا 12 اکتوبر کو اسلام آباد پہنچے گا۔ مذاکرات کے بغیر لانگ مارچ کو کمزوری سمجھنا مناسب نہیں۔
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو سیاست سے الگ نہیں کیا جا سکتا، وہ بڑے سیاسی رہنما ہیں اور انہیں کسی صورت سیاست سے باہر نہیں کیا جا سکتا۔ بانی پی ٹی آئی نے پارٹی میں لوگوں کو اختیارات دیے، سیاسی کمیٹی اور کور کمیٹی بنائی، ہم نے دونوں کمیٹیوں سے ناموں کی توثیق کروا کر اختیارات حاصل کیے۔










