پیرس ( پاک ترک نیوز) مراکش نے فرانس کی دفاعی ٹیکنالوجی کمپنی ہارمتان کے ساتھ نئی شراکت داری کے تحت طویل فاصلے تک مار کرنے والے خودکار حملہ آور ڈرونز کی تیاری کا منصوبہ بنایا ہے۔ مجوزہ نظام کی بتائی گئی پرواز کی حد تقریباً 2 ہزار کلومیٹر ہے، جبکہ منصوبے میں ڈرونز کی تیاری اور اہم پرزوں کی پیداوار مراکش میں کرنے پر توجہ دی گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق اس شراکت داری کے تحت ڈرونز کے حصول، ان کی تیاری اور مقامی سطح پر پیداوار سے متعلق تعاون کیا جائے گا۔ کمپنی کے مطابق یہ نظام پرواز سے پہلے مقرر کردہ اہداف اور مشن کی حدود کے اندر خودکار انداز میں کام کر سکے گا۔کمپنی کا کہنا ہے کہ ڈرون کے لیے ایسے رہنمائی نظام پر کام کیا جا رہا ہے جو مصنوعی سیاروں سے حاصل ہونے والے محلِ وقوع کے اشاروں کے بغیر بھی کام کر سکے۔ ہدف کے قریب پہنچنے پر بصری رہنمائی کی مدد سے نشانے کی جانب بڑھنے کی صلاحیت بھی اس کے مجوزہ نظام کا حصہ ہے۔ اس طریقۂ کار کا مقصد ایسے ماحول میں کارروائی ممکن بنانا ہے جہاں مواصلاتی رابطوں یا مصنوعی سیاروں کے اشاروں میں خلل پیدا ہو۔
تاہم ڈرون کے جنگی مواد، قیمت، آرڈر کی حتمی تعداد اور ترسیل کے وقت سے متعلق تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔منصوبے کا ایک اہم پہلو مراکش میں دفاعی ٹیکنالوجی کی مقامی تیاری ہے۔ کمپنی کے مطابق اہم پرزوں کی تیاری اور ترقیاتی کام میں مراکشی ماہرین کو شامل کیا جائے گا، جبکہ دارالحکومت رباط میں تحقیق اور ترقی کا مرکز قائم کرنے کے منصوبے پر بھی کام ہو رہا ہے۔مراکش میں دفاعی صنعت کو وسعت دینے کی کوششوں میں تحقیق، انجینئرنگ، تیاری، نظاموں کو یکجا کرنے اور آزمائش کے مراحل کو مقامی سطح پر انجام دینے پر توجہ دی جا رہی ہے۔ اس حکمتِ عملی کے تحت ملک صرف دفاعی سازوسامان حاصل کرنے کے بجائے اس کی تیاری سے متعلق تکنیکی صلاحیت بھی پیدا کرنا چاہتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان سے یورپ کے لیے براہِ راست بحری رابطہ بحال
مقامی ذرائع ابلاغ میں وسیع دفاعی صنعتی منصوبے کے لیے سالانہ 55 ہزار خودکار دفاعی نظام تیار کرنے کی ممکنہ گنجائش کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ تاہم یہ پورے صنعتی منصوبے کی مجوزہ پیداواری صلاحیت ہے، نہ کہ 55 ہزار حملہ آور ڈرونز کا تصدیق شدہ آرڈر۔












