خانیوال ( پاک ترک نیوز)ملک میں حالیہ سیلاب سے کسان شدید متاثر ہوئے ہیں اور محتاط تخمینوں کے مطابق 20لاکھ ایکڑ سے زائد زرعی زمین سیلاب سے بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ جس سے کسانوں کے لئے روزی کے وسائل اور ملکی معیشت کو زرعی اجناس کی پیداوار میں کمی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
متاثرہ زرعی زمین کی بحالی کے ساتھ کسانوں کو دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لئےسماجی تنظیم رزق نے پورے ملک میں ایک لاکھ ایکڑ زمین دوبارہ آباد کرنے کا منصوبہ شروع کیا ہے۔ معروف سماجی و مذہبی شخصیت اور رزق کے بورڈ کے چیئرمین میاں فاروق احمد نے پاک ترک نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ انکی تنظیم نے پہلے مرحلے میں اس منصوبے کے تحت پنجاب کے مختلف اضلاع میں 20 ہزار چھوٹے کسانوں کو بنا سود قرضے فراہم کرنے کے پہلے مرحلے کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ قرضے زرعی اجزا، فصلوں کی تیاری اور تربیت کی صورت میں دیے جائیں گے تاکہ گندم کے موسم سے پہلے کسان دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑے ہو سکیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پروگرام کا پہلا مرحلہ ضلع خانیوال سے شروع ہو چکا ہے۔ جسے آئندہ مرحلوں میں مظفرگڑھ، ملتان اور بہاولپور سمیت دیگر اضلاع تک بڑھایا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں حالیہ سیلاب نے چاول، مکئی، گنے اور سبزیوں سمیت متعدد فصلوں کو نقصان پہنچایا ہے۔ جس کا اثر ایک طرف غذائی قلت اور بڑھتی ہوئی قیمتوں کی شکل میں عام شہریوں تک پہنچنا شرعوع ہو گیا ہے تو دوسری طرف کسانوں کو کھڑی فصلوں کے تلف ہوجانے سے شدید مالی نقصان کا سامنا ہے۔ اور اگر انہیں فوری طور پر مالی و تکنیکی مدد فراہم نہ کی گئی تو خدانخواستہ خریف کے بعد کسانوں کے لئے ربیع کی فصل کاشت کرنا بھی ممکن نہیں ہو گا۔
میاں فاروق کا کہنا تھا کہ 15 اکتوبر سے خانیوال میں پروگرام کے نئے مرحلے کا آغاز کیا گیا ہے جہاں 100 سے زائد مقامی کسانوں کو شامل کیا گیا اور زمین کی ہمواری کا کام ٹریکٹروں کے ذریعے شروع ہوگیا ہے۔انہوں نے کہا کہ سیڈنگ گڈ مہم کے پہلے مرحلے میں 10 ہزار ایکڑ زمین کی بحالی کا ہدف رکھا گیا ہے۔
میاں فاروق احمد نے کہا کہ یہ اقدام صرف سیلاب کا جواب نہیں بلکہ ان لوگوں کو سہارا دینے کی کوشش ہے جو دہائیوں سے خاموشی سے اس ملک کی معیشت کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔انہوں نے آ خر میں کہا کہ انکی تنظیم رزق کا مقصد کسانوں کو بااختیار بنانا ہے تاکہ وہ اپنی زمین اور اپنی محنت پر فخر کے ساتھ کھڑے ہو سکیں۔












