ہرارے:(پاک ترک نیوز)زمبابوے کرکٹ ایک گہرے صدمے سے دوچار ہے، جہاں قومی ٹی ٹوئنٹی ٹیم کے کپتان اور مایہ ناز آل راؤنڈر سکندر رضا اپنے خاندان میں پیش آنے والے ایک المناک سانحے پر سوگوار ہیں۔
ان کے کم عمر بھائی محمد مہدی طویل علالت کے بعد صرف 13 برس کی عمر میں اس دنیا سے رخصت ہو گئے، جس سے نہ صرف رضا خاندان بلکہ پوری کرکٹ برادری غم میں ڈوب گئی ہے۔
زمبابوے کرکٹ بورڈ کے مطابق محمد مہدی پیدائشی طور پر ہیموفیلیا کے مرض میں مبتلا تھے۔ حالیہ دنوں میں ان کی صحت مزید بگڑ گئی تھی اور تمام تر طبی کوششوں کے باوجود وہ جانبر نہ ہو سکے۔
ان کا انتقال 29 دسمبر 2025 کو دارالحکومت ہرارے میں ہوا، جبکہ ان کی تدفین 30 دسمبر کو وارن ہلز قبرستان میں کی گئی۔
زمبابوے کرکٹ نے اپنے سرکاری بیان میں سکندر رضا اور ان کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔
بورڈ، کھلاڑی اور کوچنگ اسٹاف نے اس مشکل گھڑی میں رضا خاندان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعلان کیا اور مرحوم کے لیے دعائے مغفرت کی۔
سکندر رضا، جو میدان میں اپنی جرات، محنت اور قیادت کے لیے جانے جاتے ہیں، اس خبر کے بعد شدید صدمے میں نظر آئے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر زمبابوے کرکٹ کا تعزیتی بیان ایک ٹوٹے دل کے اظہار کے ساتھ شیئر کیا، جو ان کے اندرونی کرب کی خاموش تصویر پیش کرتا ہے۔
یہ ذاتی سانحہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب سکندر رضا کرکٹ کیریئر کے ایک اہم مرحلے میں ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے آئی ایل ٹی ٹوئنٹی 2025 میں شارجہ واریئرز کی نمائندگی کی، جہاں ان کی آل راؤنڈ کارکردگی ایک بار پھر نمایاں رہی۔
تاہم اس دکھ بھرے لمحے میں کھیل اور اعداد و شمار سب ثانوی ہو چکے ہیں۔کرکٹ حلقوں اور شائقین کی جانب سے دنیا بھر سے تعزیتی پیغامات کا سلسلہ جاری ہے۔ ہر کوئی اس مشکل وقت میں سکندر رضا کے حوصلے، صبر اور طاقت کے لیے دعا گو ہے، کیونکہ بعض اوقات میدان سے باہر کے امتحان سب سے زیادہ کٹھن ہوتے ہیں۔









