لاہور( پاک ترک نیوز) عیدالاضحیٰ قریب آتے ہی ملک بھر کے بس اڈے، ریلوے اسٹیشنز پردیسیوں سے بھر گئے۔۔۔ شہروں کی چکاچوند چھوڑ کر ہزاروں لوگ اپنے گاؤں، اپنے گھروں اور اپنے پیاروں کی طرف لوٹنے لگے۔۔۔ کہیں ماں اپنے بیٹے کی راہ تک رہی ہے تو کہیں بچے والد کے انتظار میں دن گن رہے ہیں۔
لاہور، کراچی، اسلام آباد اور فیصل آباد سمیت بڑے شہروں سے پردیسیوں کی بڑے پیمانے پر روانگی شروع ہو گئی۔۔ بس ٹرمینلز پر تل دھرنے کی جگہ نہیں، ریلوے اسٹیشنز پر مسافروں کا سمندر اُمڈ آیا۔۔ ٹکٹ نایاب، کرائے مہنگے اور رش بے قابو دکھائی دینے لگا۔ کئی مسافر چھتوں پر بیٹھ کر سفر کرنے پر مجبور، تو کچھ گھنٹوں لائنوں میں لگ کر بھی ٹکٹ نہ حاصل کر سکے۔
پردیسیوں کے چہروں پر تھکن ضرور ہے مگر اپنے پیاروں سے ملنے کی خوشی اس سے کہیں زیادہ بڑی۔کوئی والدین کیلئے تحفے اٹھائے ہوئے ہے تو کوئی بچوں کیلئے نئے کپڑے اور عیدی لے کر سفر پر نکلا ہوا ہے۔ایک مسافر نے بتایا سارا سال انتظار کرتے ہیں کہ عید پر گاؤں جائیں، چاہے جتنا بھی خرچہ ہو، عید اپنے لوگوں کے ساتھ ہی اچھی لگتی ہے۔
مسافروں کا کہنا ہے کہ مہنگائی اور سفری اخراجات بڑھنے کے باوجود عید اپنے پیاروں کے ساتھ منانے کی خوشی سب پر بھاری ہے۔۔ کئی افراد نے کئی دن پہلے ٹکٹ بک کروائے جبکہ کچھ کو اضافی کرایوں کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے۔
بس اڈوں پر لوگوں کی لمبی قطاریں اور گاڑیوں میں گنجائش سے زیادہ مسافر انتظامیہ کیلئے بھی چیلنج بن گئے ۔۔۔ دوسری طرف ٹرانسپورٹرز نے بھی اضافی بسیں چلانا شروع کر دی ہیں۔ موٹرویز پر ٹریفک کے دباؤ میں اضافے کے باعث پولیس اور ریسکیو ٹیموں کو بھی الرٹ کر دیا گیا۔
پاکستان ریلوے کی جانب سے عید اسپیشل ٹرینیں چلانے اور اضافی بوگیاں لگانے کا اعلان کیا گیا ہے تاکہ مسافروں کو سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔
مہنگائی، طویل سفر اور رش کی تمام مشکلات کے باوجود پردیسیوں کا جذبہ کم نہ ہو سکا۔۔۔ کیونکہ عید کی اصل خوشی آج بھی اپنے گاؤں، اپنے گھر اور اپنے خاندان کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔










