نیو یارک ( پاک ترک نیوز) اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے دنیا کے نقشے میں ممالک کے رقبے کو زیادہ درست انداز میں دکھانے کے لیے ایک قرارداد کی حمایت کر دی ہے۔ قرارداد کے حق میں 164 ووٹ آئے، امریکا نے مخالفت کی جبکہ چھ ممالک نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔نئے نقشے کو ’’ایکول ارتھ‘‘ کا نام دیا گیا ہے، جس میں ممالک اور براعظموں کے رقبے کو حقیقی زمینی حجم کے زیادہ قریب دکھایا جاتا ہے۔ اس نقشے میں برازیل، گرین لینڈ سے تقریباً چار گنا بڑا نظر آتا ہے، جو دونوں کے حقیقی رقبے کے تناسب کے مطابق ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ نقشہ 2018 میں امریکی نقشہ ساز ٹام پیٹرسن اور ان کے ساتھیوں برنہارڈ جینی اور بویان شاورچ نے تیار کیا تھا۔ اس کا مقصد دنیا کے نقشے میں رقبے کے تناسب کو زیادہ درست بنانا اور موجودہ نقشوں میں پائی جانے والی خامیوں کو کم کرنا تھا۔قرارداد افریقی اتحاد کے رکن ممالک اور بہاماس کی جانب سے پیش کی گئی، جبکہ توگو نے اس معاملے پر مذاکرات کی قیادت کی۔ قرارداد میں حکومتوں، تعلیمی اداروں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں پر زور دیا گیا ہے کہ جہاں ممالک کے رقبے کا درست موازنہ اہم ہو، وہاں مساوی رقبہ دکھانے والے نقشوں کو ترجیح دی جائے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور سری لنکا کی ٹیموں پر سلو اوور ریٹ پر جرمانہ عائد
موجودہ معروف نقشہ، جسے مرکٹر نقشہ کہا جاتا ہے، سولہویں صدی میں سمندری سفر میں مدد کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ اس میں قطب شمالی کے قریب واقع علاقے اپنے حقیقی رقبے سے کہیں بڑے دکھائی دیتے ہیں۔ اسی وجہ سے گرین لینڈ نقشے پر افریقہ کے تقریباً برابر دکھائی دیتا ہے، حالانکہ افریقہ کا رقبہ گرین لینڈ سے تقریباً 14 گنا زیادہ ہے۔ماہرین کے مطابق نئے نقشے سے افریقہ اور لاطینی امریکا کے ممالک کو دنیا کے نقشے پر زیادہ درست نمائندگی ملے گی۔ ارجنٹائن اور کولمبیا کے جغرافیہ دانوں کا کہنا ہے کہ نقشے میں رقبے کی درست عکاسی ان خطوں کی عالمی سطح پر شناخت اور اہمیت کے بارے میں تصورات پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔
تاہم قرارداد میں مرکٹر نقشے پر پابندی عائد نہیں کی گئی اور نہ ہی کسی ایک نقشے کو دنیا بھر میں لازمی قرار دیا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ زمین گول ہے، اس لیے اسے ہموار سطح پر دکھاتے ہوئے کسی نہ کسی پہلو میں تبدیلی یا بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔ ہر نقشے میں رقبے، شکل یا سمت کے حوالے سے مختلف سمجھوتے کرنا پڑتے ہیں۔












