
از: سہیل شہریار
بنگلہ دیش میںرواں ہفتے 12فروری کو ہونے والے عام انتخابات کیلئے سیاسی مہمات تیز ہو رہی ہیں، جسے بہت سے سیاسی پنڈت 2024 میں شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد ساڑھے 17کروڑ آبادی والےملک کے مستقبل کا تعین کرنے کے لیے اہم سمجھتے ہیں۔کیونکہ یہ تقریباً دو دہائیوں میں پہلا الیکشن ہوگا جس میں حقیقی مقابلے کی توقع ہے۔ اور اس میں 12کروڑ70لاکھ ووٹر اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔
پانچ سالہ حکومت کے انتخاب کی الیکشن مہم 22 جنوری کو شروع ہوئی تھی اور یہ 10 فروری شب 12بجے تک جاری رہے گی۔ ابتدائی نتائج کا اعلان انتخابات کے دن جمعرات، 12 فروری کو ہونا ہے۔
تاہم محمد یونس کی قیادت میں عبوری حکومت کا کہنا ہے کہ انتخابی نتائج میں انتخابات کے دن زیادہ وقت لگے گا کیونکہ اسی وقت آئینی و انتظامی اصلاحات کا ریفرنڈم بھی کرایا جارہا ہے۔
حسینہ کی عوامی لیگ پارٹی کو انتخابات میں حصہ لینے سے روکے جانے کے بعد، سابق اتحادی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) اور بنگلہ دیش جماعت اسلامی پارٹی اہم حریف بن گئے ہیں۔ جبکہ نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) جس کے نوجوان لیڈر "جولائی بغاوت” کی قیادت کر رہے تھے جس نے حسینہ کی حکومت کو معزول کیا تھا۔ اب جماعت کی قیادت والے انتخابی اتحاد میں شامل ہو گئی ہے۔ اور یہ بات ان انتخابات میں اب کانٹے کے مقابلے کا اشارہ دیتی ہے۔
بنگلہ دیش میں ریسرچ فاؤنڈیشن اور الیکشن فاؤنڈیشن نے مشترکہ طور پر کئے گئے سروے کی بنیاد پر بتایا ہے کہ تقریباً ایک تہائی رائے دہندگان 30.2فیصد نے بنیادی طور پر پارٹی کی بجائے انفرادی امیدوارکو اپنا ووٹ ڈالنے کی بات کی ہے۔ یہ حصہ ان 30.4فیصد لوگوں کے مقابلے ہے جو بنیادی طور پر پارٹی وابستگی پر انحصار کرتے ہیں تھوڑا چھوٹا ہے۔ جبکہ سب سے بڑا گروپ پارٹی اور امیدوار دونوں کو ایک ساتھ سمجھتا ہےاور یہ33.2فیصد ددٹروں پر مشتمل ہے۔
اس ہفتے کئے جانے والے سروے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ لوگوں کی اکثریت کی رائے میں بدعنوانی ووٹروں کے فیصلوں پر نمایاں اثر ڈالے گی۔سروے کرنے والی تنظیموں کے مطابق انکا حالیہ سروے یہ بھی بتاتا ہے کہ 67فیصدووٹرز اپنا ووٹ اس لیڈر کو دیں گے جو بدعنوانی کے خلاف ہوگا۔ اوریہ بیانیہ جولائی کی تحریک کی امنگوں کی واضح عکاسی کرتا ہے۔سرویز نشاندہی کر رہے ہیںکہ نوجوان ووٹرز انتخابات میں فیصلہ سازی کے اہم بلاکس میں سے ایک ہوں گے۔چنانچہ ایک تہائی سے زیادہ تقریباً 40فیصد لوگ ایسے ہیں جنہوں نے پچھلے 17سالوں میں کسی بھی قابل اعتبار الیکشن میں ووٹ نہیں دیا ہے۔ وہ اب حقیقی تبدیلی کے متمنی ہیں۔اس سب کے باوجود تازہ ترین الیکشن سروے بتاتے ہیں کہ بی این پی کا اتحاد 35فیصد عوامی پزیرائی کے ساتھ سر فہرست ہے ۔جبکہ جماعت اسلامی کی سربراہی میںاتحاد 29فیصد عوامی حمایت کے ساتھدوسرے نمبر پر ہے۔
ملک کے 300حلقوں میں پارلیمانی نشستوں کے لیے مقابلہ کرنے والے دو سب سے بڑے گروپ بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) 10جماعتوں کے اتحاد کی قیادت کر رہی ہے۔ اور جماعت اسلامی بنگلہ دیش (جے آئی بی) 11 جماعتی اتحاد کی قیادت کر رہی ہے، جس میںجولائی 2024کی طلبہ تحریک کی قیادت کرنے والے طالب علم راہنماؤں کی تشکیل کردہ نیشنل سٹیزن پارٹی بھی شامل ہے۔
ان دو اہم بلاکوں کے علاوہ جماعت اسلامی کی سابق حلیف اسلامی اندولن بنگلہ دیش اور عوامی لیگ کی دیرینہ حلیف جاتیہ پارٹی اپنے طور پر الیکشن لڑ رہی ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق انتخاب لڑنے والے 1981امیدواروں میں سے 1696پہلی بار الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔اسی طرح ملک میں پہلی بار دنیا بھر میں آباد بنگلہ دیش کے سوا کروڑ شہریوں میں سےمنتخب افراد بھی حق رائے دہی استعمال کریں گےجس کے لئے الیکشن کمیشن ایک پوسٹل ووٹ بی ڈی ایپ متعارف کروا یا ہے تاکہ تارکین وطن کو اپنا این آئی ڈی استعمال کرتے ہوئے بیرون ملک سے رجسٹر کرنے اور ووٹ دینے کی اجازت دی جائے۔












