اسلام آباد ( پاک ترک نیوز)
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے پری پیڈ موبائل بیلنس کی میعاد کو ختم کرنے کی تجویز دی ہے۔ جس میں کہا گیا ہے کہ صارفین کا بقیہ بیلنس ان کے سم کارڈز کی پوری فعال زندگی کے لیے برقراررہنا چاہیے۔
اس سلسلے میں پی ٹی اے کی جاری کردہ اس تجویز پر 16 مارچ 2026 تک عوام اور صنعت کی رائے طلب کی گئی ہے۔ اگر اس تجویز کو موبائل فون کمپنیاں اور صارفین قبول کرتے ہیں تو یہ پاکستان کی اکثریتی پری پیڈ موبائل مارکیٹ کو نمایاں طور پر نئی شکل دے سکتی ہے۔ جہاں تقریباً 97 فیصد صارفین پری پیڈ سروسز استعمال کرتے ہیں۔
پی ٹی اے نے نوٹ کیا ہےکہبیشتر سیلولر موبائل آپریٹرز (سی ایم اوز) فی الحال ریچارج کی رقم کے لحاظ سے 30 دن سے 365 دن کی میعاد ختم ہونے کے بعد غیر استعمال شدہ پری پیڈ بیلنس کو ضبط کر لیتے ہیں۔
مگرمجوزہ فریم ورک کے تحت ایسا نہیں ہو سکے گا۔ پری پیڈ بیلنس سم کی پوری فعال زندگی کے لیے درست رہے گا۔ جیسا کہ سم کی فروخت اور ایکٹیویشن پر پی ٹی اے کی معیار کے مطابق طریقہ کار کے تحت بیان کیا گیا ہے۔ چنانچہ بیلنس کو صارف کے کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ سے منسلک کیا جائے گا۔ اگر ایک سم غیر فعال ہے اور اس کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ کے تحت اسی نیٹ ورک پر کوئی دوسری سم موجود نہیں ہو گی تو بقیہ بیلنس اسی نیٹ ورک پر نئی سم کے اجراء پر بحال کیا جائےگا۔یا کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ کی تصدیق کے بعدبینک ٹرانسفر یا موبائل والیٹ کے ذریعے رقم واپس کی جائے گی۔
اگرچہ پی ٹی اے نے اس تجویز پر موبائل فون کمپنیوں سے پیشگی مشاورت کی تھی ۔تاہم طریقہ کار پر عملدرآمد کے لئے پی ٹی اے نے اپنے فیصلے کو حتمی شکل دینے سے پہلے سیلولر آپریٹرز، ٹیلی کام صارفین اور عام لوگوں سے 16مارچ تک انکی ارأ طلب کی ہیں۔جنہیں مقررہ وقت تک اسلام آباد میں پی ٹی اے ہیڈ کوارٹرز میں ڈائریکٹرتجارتی امو ر کے دفتر میں جمع کرایا جا سکتا ہے۔






