اسلام آباد (پاک ترک نیوز) حکومت کی جانب سے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کو آگاہ کیا گیا ہے کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے )کی نجکاری کے عمل میں تمام 6700 ملازمین کو تحفظ فراہم کیا جائے گا، خریدار کی جانب سے گولڈن ہینڈ شیک کا آپشن پیش کیا جا سکتا ہے ۔
وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری کو آگاہ کیا کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی موجودہ تقریباً 6700 افرادی قوت کو تحفظ فراہم کیا جائے گا اور زیادہ سے زیادہ ملازمین کو برقرار رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔قائمہ کمیٹی کو بتایاگیا کہ آنے والے خریدار کی طرف سے گولڈن ہینڈ شیک کا آپشن پیش کیا جا سکتا ہے۔
پی آئی اے کی نجکاری عمل اکتوبر سے دسمبر 2025 کے درمیان مکمل ہونے کا امکان ہے ۔
نجکاری کمیشن کے حکام نے کمیٹی کو بریفنگ دی کہ چار فریقین لین دین کے لیے پری کوالیفائی کر چکے ہیں۔ ان میں لکی سیمنٹ کنسورشیم، عارف حبیب گروپ، ایئر بلیو، اور فوجی فرٹیلائزر کمپنی شامل ہیں۔ ان گروپوں کی جانچ شروع ہو چکی ہے ۔
سیکرٹری نجکاری کمیشن عثمان اختر باجوہ نے کہا کہ شارٹ لسٹ کیے گئے بولی دہندگان کو پی آئی اے کے ورچوئل ڈیٹا روم تک رسائی دی جائے گی اور لین دین سے متعلق ان کے سوالات کا ازالہ کیا جائے گا۔ اصل منصوبہ بندی 60 سے 90 دنوں کی بجائے 60 دنوں میں مستعدی کے عمل کو مکمل کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
کمیٹی نے نجکاری کمیشن کو ہدایت کی کہ وہ قومی کیریئر کی نجکاری کے حوالے سے پنجاب اور خیبرپختونخوا کے وزرائے اعلیٰ سے رابطہ کرے۔ کمیٹی کے چیئرپرسن فاروق ستار نے کہا ہے کہ بہت سی پری کوالیفائیڈ جماعتوں نے پہلے پی آئی اے کے حصول میں دلچسپی ظاہر کی تھی۔






