
از: سہیل شہریار
دنیا بھر کے کئی ملکوں کی طرح اب پاکستان میں بھی غیر مجاز ڈرون کو روکنے کے لیے عقابوں کو تربیت دینے کے لیے ایک آزمائشی منصوبے پر کام جاری ہے۔ اس حوالے سے پہلا شاہی عقاب اب مشرقی کانٹی نینٹل فالکنری پاکستان میںتربیتی مراحل سے گزر رہاہے۔
یہ پروگرام بغیر پائلٹ کے فضائی گاڑیوں (ڈرونز) کے غلط استعمال پر بڑھتے ہوئے سیکورٹی خدشات کے جواب میں حیاتیاتی انسداد ڈرون کی صلاحیتوں کوپروان چڑھانے کے لئے شروع کیا گیا ہے۔ گوجرانوالہ میں قائم فالکنری کا ادارہ ایسٹ کانٹی نینٹل فالکنری پاکستان ملک میں پرندوں کے علم ( آرنیتھولوجی) کا اہم تحقیقی مرکز ہے۔جسے عقاب، فالکن، ہاکس اور ہیریئر سمیت نایاب شکاری پرندوںکے تحفظ اور مطالعہ میں مہارت حاصل ہے۔
انسداد ڈرون پروگرام کے لیے منتخب کیا گیا شاہی عقاب اپنی غیر معمولی جسمانی خصوصیات کے لیے مشہور ہے۔ جس میں پرواز کے لئے بڑے پر، اور 11.5انچ تک بڑے پنجے نمایاں ہیں۔اور یہ جسمانی خصوصیات افغانستان، بھارت، سری لنکا اور نیپال سمیت علاقائی عقابوں میں سے کسی میں موجود نہیں۔یہی وجہ ہے کہ اس تجرباتی منصوبے کے لئے شاہی عقاب کا انتخاب بین الاقوامی آزمائشوں کی ایک سیریز کے بعدکیا گیا ہے۔
ہالینڈنے ایک نجی فرم کے ساتھ شراکت میں ڈچ نیشنل پولیس کے ذریعے چلائے جانے والے پروگرام کے ذریعے اینٹی ڈرون آپریشنز کے لیے عقابوں کے استعمال کا آغاز کیا۔ تاہم، بعد میں آپریشنل چیلنجوں اور پرندوں کی حفاظت کے خدشات کی وجہ سے اس اقدام کو بند کر دیا گیا۔فرانس میں سنہری عقابوں کو حساس فوجی مقامات کے قریب ڈرون کو روکنے کی تربیت دی گئی ہے۔ فرانسیسی فضائیہ ان پرندوں کو چھوٹی عمر سے ہی کنڈیشن (تربیت) دیتی ہے۔ انہیں ڈرون کو شکار کے طور پر دیکھنا سکھایا جاتا ہے۔ اور کامیاب مداخلت کا صلہ خوراک کی صورت میں ملتا ہے۔ چوٹ کے خطرات کو کم کرنے کے لیے حفاظتی پوشاک، جیسے کیولر اور چمڑے کے ڈھکن بھی تیار کیے گئے ہیں۔ برطانیہ اور اسپین سمیت دیگر ممالک نے بھی اسی طرح کے اقدامات کی کھوج کی ہے۔ حالانکہ ان کو وسیع پیمانے پر اپنایا نہیں گیا ہے۔
پاکستان میںیہ منصوبہ اپنے تحقیقی مرحلے میں ہے۔ وسیع تر تعیناتی پر غور کرنے سے پہلے عقاب پر مبنی انسداد ڈرون حکمت عملی کی فزیبلٹی، حفاظت اور عملی فوائد کا جائزہ لینے کے لیے تربیتی اور تحقیقی عمل جاری ہے۔












