واشنگٹن ڈی سی(پاک ترک نیوز) امریکی خلائی ادارے ناسا نے زمین پر ایسی حیرت انگیز چٹان کی تصویر جاری کی ہے جو چاند کی سطح پر پائی جانے والی چٹانوں سے غیر معمولی مشابہت رکھتی ہے۔ افریقی ملک مڈغاسکر کے جنوبی علاقے میں واقع اس روشن چٹانی ساخت کو بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر موجود خلاباز نے خلا سے اپنے کیمرے میں محفوظ کیا۔
ناسا کے مطابق 28 اگست 2026 کو لی گئی تصویر میں ساریریاکی نامی چٹانی سلسلہ اردگرد کے خشک اور گہرے رنگ کے علاقے میں نمایاں دکھائی دیتا ہے۔ یہ چٹانی ذخیرہ تقریباً 100 مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بیرونِ ملک پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر میں 14 فیصد اضافہ
سائنس دانوں کے مطابق یہ چٹان ایک خاص قسم کی آتشیں چٹان ہے جسے اینورتھوسائٹ کہا جاتا ہے۔ یہی چٹان چاند کے روشن بالائی علاقوں کا ایک اہم حصہ ہے، جو زمین سے دیکھنے پر چاند کی سطح پر سفید اور روشن دھبوں کی صورت میں دکھائی دیتے ہیں۔
ارضیاتی تحقیقات کے مطابق مڈغاسکر میں موجود یہ چٹانی ذخیرہ کم از کم 60 کروڑ سال قدیم ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اس علاقے کی چٹانیں قدیم براعظموں کے ٹکراؤ، شدید دباؤ اور بلند درجہ حرارت کے باعث اپنی موجودہ شکل میں ڈھلی ہیں۔
سائنس دانوں کے مطابق یہ علاقہ ایک ایسی ارضیاتی پٹی میں واقع ہے جہاں زمین کی اندرونی قوتوں نے چٹانوں کو موڑنے، کھینچنے اور ان کی ساخت تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ تبدیلیاں اس دور سے تعلق رکھتی ہیں جب زمین کے مختلف حصے مل کر عظیم براعظم گونڈوانا تشکیل دے رہے تھے۔
تحقیقات سے یہ امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ اس علاقے میں موجود دو بڑے چٹانی ذخیرے ماضی میں ایک ہی چٹانی جسم کا حصہ رہے ہوں، لیکن زمین کی اندرونی قوتوں نے انہیں کھینچ کر الگ کردیا ہو۔
اینورتھوسائٹ چٹانیں صرف زمین کی قدیم تاریخ ہی نہیں بلکہ چاند کی تشکیل کے راز سمجھنے کے لیے بھی انتہائی اہم ہیں۔
سائنس دانوں کے مطابق چاند کی ابتدائی تاریخ میں اس کی سطح پگھلی ہوئی چٹانوں کے ایک وسیع سمندر سے ڈھکی ہوئی تھی۔ وقت گزرنے کے ساتھ جب یہ پگھلا ہوا مادہ ٹھنڈا ہوا تو مخصوص معدنیات سطح کے قریب جمع ہوگئیں اور چاند کی بیرونی پرت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔












