
از: سہیل شہریار
مکہ مکرمہ میں ہوائی اڈہ اور میٹرو سسٹم بنانے کے منصوبوں پر کام تیزی سے جاری ہے۔جن کی تعمیر کے بعد مکہ مکرمہ شہرکے ٹرانسپورٹ کے نظام اور بنیادی ڈھانچے کی اپ گریڈیشن سے ہر سال لاکھوں حاجی اور زائرین مستفید ہونگے۔
مکہ مکرمہ شہر اور مقدس مقامات کے لیے رائل کمیشن کی تازہ رپورٹ میںبتایا گیا ہے کہ مکہ مکرمہ کے ہوائی اڈے کو عالمی معیار کے مطابق تیار کرنے کے لیے اسٹریٹجک اور اقتصادی سرمایہ کاری کے لیےحکومت سے منظوری حاصل کر لی گئی ہے۔ جس کا مقصد لاکھوں زائرین کی خدمت کرنا ہے۔کمیشن کے مطابق نجی شعبے کے ساتھ مل کر مکہ مکرمہ کے بین الاقوامی ہوائی اڈےکی تعمیر کی فزیبلٹی اور سرمایہ کاری کے مناسب ماڈل کی تیار ی کا کام مکمل کر لیا گیا ہے ۔البتہ ائرپورٹ کی تعمیراتی ٹائم لائن اور تعمیر کے مقام ابھی تک اعلان نہیں کیا گیا ہے۔
مکہ میٹرو کے لیے فزیبلٹی اسٹڈیز اور ابتدائی ڈیزائن بھی مکمل کر لیے گئے ہیں۔ مکہ میٹرو منصوبے کے لئے حکومتی منظوری حاصل کی جا چکی ہے۔اس میں مستقبل میں مکہ انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے براہ راست ایک وقف میٹرو کنکشن بھی شامل ہے تاکہ زائرین و عازمین حج کی آمدورفت کو بہتر بنایا جا سکے۔
مکہ میٹرو منصوبہ ایک ماس ٹرانزٹ سسٹم ہے جو مکہ پبلک ٹرانسپورٹ پروگرام (ایم پی ٹی پی) کے تحت بھیڑ کو کم کرنے اور سالانہ لاکھوں حاجیوں کی خدمت کے لیے روبہ عمل ہے۔ اس منصوبے کو تین بڑے مراحل میں تیار کیا جا رہا ہے جس میں آخر کار چار سے چھ مربوط لائنیں شامل ہوں گی۔ جو 182 کلومیٹر طویل اور 88 سے زیادہ اسٹیشنوں پر محیط ہے۔
ٹرانسپورٹ کی موجودہ سہولیات میں بہتری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے رپورٹ میںبتایا گیا ہے کہ بس، ٹیکسی اور گائیڈڈ ٹرانسپورٹ سسٹم میں پیشرفت کے ساتھ اب "مکہ ٹیکسی” کا اجراء بھی کر دیا گیا ہے۔جس میں ٹریکنگ سسٹم اور الیکٹرانک ادائیگی کی سہولت سے لیس جدید الیکٹرک اور ہائی برڈگاڑیاں شامل ہیں۔
مکہ بس نیٹ ورک اس وقت 12 روٹس پر 400 بسیں چلارہا ہے۔ جو شہر کے زیادہ ترعلاقوں کا احاطہ کرتی ہیں۔جبکہ شہر کے مرکزی علاقے میں چاربڑے بس اسٹیشنوں کے علاوہ 430 اسٹاپس سے مسافروں کوآنے جانےکی سہولت فراہم کر رہی ہیں۔
فروری 2022 میں بس سروس شروع ہونےکے بعد سے اب تک آمد و رفت کی یہ سہولت استعمال کرنے والوں کی تعداد ایک کروڑ 85لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔جبکہ یہ بسیںاپنے روٹس پر 38 لاکھ سے زیادہ سفر مکمل کر چکی ہیں۔












