پشاور ( پاک ترک نیوز) خیبر پختونخوا حکومت نے مالی وسائل کی شدید کمی کے باعث 215 میگا واٹ کے مڈین ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کو ورلڈ بینک کے مالی تعاون سے جاری خیبرپختونخوا ہائیڈرو پاور اینڈ رینیوایبل انرجی ڈویلپمنٹ پراجیکٹ سے نکالنے کا فیصلہ کر لیا۔
ورلڈ بینک کی دستاویزات کے مطابق صوبائی حکومت نے 727 ملین ڈالر مالیت کے منصوبے میں بڑے پیمانے پر تبدیلی کی درخواست کی تھی کیونکہ منصوبے کو 452.5 ملین ڈالر کے مالی خسارے کا سامنا تھا۔ اس میں 267.5 ملین ڈالر لاگت میں اضافے اور 185 ملین ڈالر متوقع تجارتی قرضوں کی عدم دستیابی شامل ہے۔
ورلڈ بینک نے اصولی طور پر منصوبے کی ازسرنو تشکیل نو پراتفاق کر لیا ہے، جس کے تحت مڈین ہائیڈرو پاور منصوبے کی فنڈنگ ختم کر دی جائے گی، منصوبے کی تکمیل کی مدت میں تین سال کی توسیع کی جائے گی اور مالیاتی و انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی لائی جائے گی۔
یہ منصوبہ ستمبر 2020 میں منظور اور جنوری 2021 میں فعال ہوا تھا۔ اس کے تحت 88 میگاواٹ گبرال-کالام ہائیڈرو پاور پراجیکٹ، 215 میگاواٹ مڈین ہائیڈرو پاور پراجیکٹ اور شمسی توانائی کے مختلف منصوبے شامل تھے۔
نئی حکمت عملی کے تحت مڈین منصوبے سے متعلق تمام سرگرمیاں ختم کر دی جائیں گی جبکہ گبرال-کالام ہائیڈرو پاور منصوبہ، سولر توانائی کے پروگرام اور تکنیکی معاونت کے منصوبے جاری رہیں گے۔
ورلڈ بینک کے مطابق منصوبے کے آغاز کے پانچ سال بعد بھی صرف 4 فیصد فنڈز استعمال ہو سکے، جس کی بڑی وجوہات خریداری کے پیچیدہ مراحل، انتظامی تاخیر اور اگست 2022 کے تباہ کن سیلاب کے بعد مڈین منصوبے کے ڈیزائن میں تبدیلیاں تھیں۔ سیلاب کے بعد ڈیم کی سلامتی سے متعلق خدشات بھی سامنے آئے تھے۔
تاہم حالیہ مہینوں میں گبرال-کالام منصوبے پر پیش رفت تیز ہوئی ہے۔ اہم ٹھیکے دیے جا چکے ہیں، زمین کا حصول مکمل ہو چکا ہے جبکہ منصوبے کی کالونی کا تقریباً 70 فیصد کام مکمل کیا جا چکا ہے۔
منصوبے کی مجموعی لاگت اب 727 ملین ڈالر سے کم ہو کر تقریباً 480.6 ملین ڈالر رہ جائے گی۔ ورلڈ بینک کی 450 ملین ڈالر کی مجموعی مالی معاونت میں سے 277.7 ملین ڈالر گبرال-کالام منصوبے پر خرچ کیے جائیں گے جبکہ 25 ملین ڈالر ادارہ جاتی استعداد کار بڑھانے کے لیے مختص ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: ورلڈ بینک، آئی ایم ایف، ورلڈ فوڈ پروگرام کا مشترکہ اجلاس،جنگ کے عالمی معیشت پر اثرات کا جائزہ
مزید 147.3 ملین ڈالر ممکنہ نئے قابلِ تجدید توانائی منصوبوں، بشمول پن بجلی اور شمسی توانائی سکیموں کے لیے محفوظ رکھے جائیں گے۔نظرثانی شدہ معاہدے کے مطابق اب منصوبے کی 93.7 فیصد لاگت ورلڈ بینک برداشت کرے گا جبکہ خیبرپختونخوا حکومت کا حصہ صرف 6.3 فیصد رہ جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی تجارتی قرضوں کا منصوبہ مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔
منصوبے کی تکمیل کی نئی تاریخ 30 نومبر 2030 مقرر کی گئی ہے، جو پہلے 30 نومبر 2027 تھی۔ ورلڈ بینک کا کہنا ہے کہ صرف گبرال-کالام منصوبے کو مکمل کرنے کے لیے تقریباً 56 ماہ درکار ہوں گے۔
دستاویزات کے مطابق مڈین منصوبے کی منسوخی کے بعد زمین کے حصول کا عمل بھی روک دیا جائے گا اور متعلقہ زمین موجودہ مالکان کے پاس ہی رہے گی۔ تاہم گبرال-کالام منصوبے کے لیے ماحولیاتی اور سماجی تحفظ کے تمام اصول برقرار رہیں گے۔
ورلڈ بینک نے اس منصوبے کے لیے مجموعی خطرے کی درجہ بندی برقرار رکھی ہے، جس کی وجوہات تکنیکی پیچیدگیاں، عملدرآمد کی صلاحیت، ماحولیاتی و سماجی مسائل اور مستقبل کی قومی توانائی منصوبہ بندی سے متعلق غیر یقینی صورتحال قرار دی گئی ہیں۔
ورلڈ بینک کا کہنا ہے کہ منصوبے میں کمی کے باوجود یہ پاکستان کے صاف توانائی کے اہداف، گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی اور پائیدار توانائی کے فروغ کے لیے اہم کردار ادا کرتا رہے گا۔












