تہران(پاک ترک نیوز)
ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ کی شہادت کے بعد ایران نے اسرائیل اور امریکہ پر جوابی کارروائیوں میں تیزی لانے اور اپنے جدید ترین بیلسٹک میزائل استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔
ایران پر اپنی نئی حکمت عملی کے تحت امریکہ کے فوجی اڈوں پر جید بیلسٹک میزائل عماد اور قادر کو داغ دیا ۔
یہ حملے ایک نئی حکمت عملی کا حصہ ہیں جس کا مقصد اسرائیل کے انٹرسیپٹر میزائلوں کو ناکام بنانا ہے تاکہ اگر یہ جنگ طویل ہوئی تو ایران اپنی جدید ترین میزائل ٹیکنالوجی سے اسرائیل کو نشانہ بنا سکے۔
ایران کی جانب سے مڈی رینج اور کامی کازی ڈرونز سے قطر ،بحرین ،متحدہ عرب امارات اور کویت میں موجود امریکی بیسز کو نشانہ بنایا ۔ایران نے ان حملوں میں جدید بیلسٹک میزائل عماد اور قادر کا بھی استعمال کیا جن سے اسرائیل کے مختلف اہم مقامات جیسے تل ابیب ،شکالون اور حیفا کو نشانہ بنایا ۔ایران کے اسلامی انقلابی گارڈز نے خیبر شکن میزائل بھی استعمال کیے۔
یہ جوابی کارروائی امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے بعد ہوئی، جس میں ایران کے میزائل انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ لیکن ایرانی ردعمل نے امریکہ اور اسرائیل کو سخت پیغام دیا ہے۔
ایران میں 555 سے زیادہ افراد امریکی اور اسرائیلی حملوں میں جاں بحق ہوئے، جبکہ امریکی فوج کے کئی اہلکار بھی ایرانی جوابی حملوں میں مارے گئے۔ اگرچہ بہت سے ایرانی میزائل اسرائیل اور اتحادی دفاعی سسٹمز کے ذریعے روک لیے گئے، پھر بھی کچھ میزائل ان سسٹمز کو توڑتے ہوئے اپنے مقاصد تک پہنچے۔
امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے میزائل اور جوہری پروگرام کو ناکام بنانے کے لیے اپنی کارروائیاں جاری رکھی ہیں، لیکن ایران کی طاقتور جوابی حکمت عملی نے دنیا بھر میں گہری تشویش پیدا کر دی ہے۔












