تہران ( پاک ترک نیوز) اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایران کے سینکڑوں سائبر حملے ناکام بنا دیے، مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ واقعی حملے تھے یا ڈیجیٹل محاذ پر جاری اعصابی جنگ کا حصہ؟ جون 2025 کی 12 روزہ جنگ کے بعد خطے میں کشیدگی کم ہونے کے بجائے اور بڑھ گئی ہے۔ اب میدانِ جنگ زمین یا سمندر نہیں، بلکہ سائبر اسپیس بن چکا ہے۔ایرانی حکمتِ عملی کو مغرب “سائبر خطرہ” قرار دے رہا ہے، لیکن تہران کا مؤقف واضح ہے: اگر اس پر دباؤ ڈالا جائے گا تو وہ ہر محاذ پر جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اسرائیلی حکام کہہ رہے ہیں کہ گوگل اکاؤنٹس، واٹس ایپ اور ٹیلیگرام کے ذریعے حساس معلومات تک رسائی کی کوشش کی گئی۔
سوال یہ ہے کہ کیا یہ دفاعی پیش بندی تھی یا ممکنہ حملوں کے خلاف انٹیلی جنس تیاری؟ادھر امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات جاری ہیں، مگر ساتھ ہی امریکی دھمکیاں بھی گونج رہی ہیں۔ اسرائیلی وزیر اعظم واشنگٹن میں موجود ہیں، اور پس پردہ سفارت کاری کے ساتھ ساتھ فوجی تیاریوں کی خبریں بھی سامنے آ رہی ہیں۔ ایسے میں ایران نے واضح پیغام دیا ہے کہ وہ دباؤ میں آنے والا نہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آج کی جنگ میزائلوں سے پہلے کی بورڈ سے لڑی جاتی ہے۔ اگر کشیدگی اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو سائبر حملے کسی بھی وقت حقیقی تصادم کا پیش خیمہ بن سکتے ہیں۔ جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں، اور ڈیجیٹل دنیا میں ہونے والی ہر چنگاری خطے کو آگ میں دھکیل سکتی ہے۔کیا یہ صرف سائبر جھڑپیں ہیں یا ایک بڑے طوفان کا آغاز؟ آنے والے دن فیصلہ کریں گے کہ خطہ امن کی طرف جاتا ہے یا ایک نئی جنگ کی طرف۔












