ابوظہبی(پاک ترک نیوز)دنیا کی سب سے بڑی کرپٹو کرنسی ایکسچینج بائننس نے ممکنہ سائبر حملے سے متعلق سکیورٹی خدشات کی تحقیقات شروع کردیں، جبکہ مختلف کرپٹو کمپنیوں نے واقعے سے منسلک 3 ارب ڈالر سے زائد مالیت کے اثاثے منجمد کردیے ہیں۔
بائننس نے بتایا کہ وہ سکیورٹی میں ممکنہ نقب زنی کی اطلاعات کا جائزہ لے رہی ہے۔ تاہم کمپنی نے تاحال اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ ہیکرز صارفین کے فنڈز چرانے میں کامیاب ہوئے ہیں یا نہیں۔ بائننس کا کہنا ہے کہ صارفین کے اثاثے محفوظ ہیں۔
کمپنی کے مطابق اس کی ٹیمیں قانون نافذ کرنے والے اداروں، کرپٹو اثاثوں کے اجرا کرنے والے اداروں، بلاک چین کی نگرانی کرنے والی کمپنیوں اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کررہی ہیں تاکہ مزید مشتبہ اثاثوں کا سراغ لگا کر انہیں منجمد کیا جاسکے۔کرپٹو کرنسی کی معروف کمپنیوں ٹیتھر اور سرکل نے بھی واقعے کے بعد متعلقہ فنڈز منجمد کرنے کا اعلان کیا ہے۔
سرکل کے شریک بانی اور سربراہ جیریمی الیئر کے مطابق کمپنی نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون سے واقعے سے منسلک 80 کروڑ ڈالر سے زائد مالیت کے اثاثے منجمد کیے ہیں۔ دوسری جانب ٹیتھر کے سربراہ پاؤلو آردوینو نے بتایا کہ ان کی کمپنی نے بائننس پر ممکنہ سائبر حملے سے متعلق ڈیڑھ ارب ڈالر سے زائد مالیت کے اثاثے منجمد کیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی وسط مدتی انتخابات 3 نومبر کو ہوں گے
بائننس کے بانی چانگ پینگ ژاؤ نے بھی سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر بیان میں کہا کہ صارفین کے فنڈز محفوظ ہیں۔ ان کے مطابق یہ واقعہ بائننس پر سائبر حملہ معلوم ہوتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اب وہ کمپنی کے انتظامی معاملات نہیں چلاتے، تاہم بطور حصص دار انہیں توقع ہے کہ صارفین کے تمام فنڈز کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔






