نئی دہلی ( پاک ترک نیوز)
خطے میں ایک بار پھر جنگ کے بادل منڈلانے لگے۔ بھارت نے پاکستانی سرحد کے قریب طاقت کا سب سے بڑا مظاہرہ کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ کیا یہ محض ایک فوجی مشق ہے یا کوئی واضح پیغام؟ بھارتی فضائیہ کے حالیہ اعلان نے جنوبی ایشیاء میں تشویش کی نئی لہر دوڑا دی ہے۔ لیکن دشمن یہ نہیں جانتا ہے کہ پاک فوج اور اس کی فضائیہ وطن عزیز کی حفاظت کیلئے پوری طرح چوکس ہے۔ خبریں ہیں کہ بھارتی فضائیہ 27 فروری کو ایک بڑی فضائی جنگی مشق کرنے جا رہی ہے، جسے “وایو شکتی 2026” کا نام دیا گیا ہے۔
یہ مشق راجستھان کے پوکھران فیلڈ فائرنگ رینج میں ہوگی اور اسے آپریشن سندور کے بعد بھارت کی سب سے بڑی فضائی طاقت کا مظاہرہ قرار دیا جا رہا ہے۔رپورٹس کے مطابق اس ڈھائی گھنٹے طویل مشق میں 77 فائٹر جیٹس اور 43 ہیلی کاپٹرز حصہ لیں گے۔ مجموعی طور پر 120 سے زائد دفاعی اثاثے اس ڈرل کا حصہ ہوں گے۔ سب سے چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ اس مشق کے دوران 277 ہتھیار فائر کیے جائیں گے، جن میں تقریباً 11 ہزار 835 کلو گرام دھماکہ خیز مواد استعمال ہوگا۔یہ سب کچھ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب مئی 2025 ء میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کے بعد بھارتی فضائیہ نے اپنی آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لیا تھا۔
ماہرین کے مطابق سرحد کے قریب اس نوعیت کی بڑی مشق نہ صرف طاقت کا اظہار ہے بلکہ ایک اسٹریٹیجک پیغام بھی ہو سکتی ہے۔سوال یہ ہے کہ کیا یہ محض معمول کی فوجی سرگرمی ہے یا خطے میں طاقت کے
توازن کو متاثر کرنے کی کوشش؟ پاکستان اس پیش رفت کو کس نظر سے دیکھے گا؟ اور کیا آنے والے دنوں میں سفارتی محاذ پر بھی کشیدگی بڑھے گی؟ جنوبی ایشیاء ایک بار پھر حساس مرحلے میں داخل ہوتا دکھائی دے رہا ہے، جہاں ہر اقدام کا اثر سرحدوں سے کہیں آگے تک جا سکتا ہے۔












