کوالالمپور(پاک ترک نیوز ) ملائیشیا نے میانمار سے تعلق رکھنے والے تقریباً 5 ہزار پناہ کے متلاشی افراد کو میانمار واپس بھیجنے کا عمل شروع کردیا ہے، جس پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔رپورٹ کے مطابق میانمار کی بحریہ کے تین جہاز منگل کو ملائیشیا سے روانہ ہوئے، جن میں پہلے مرحلے میں ایک ہزار 476 افراد کو واپس لے جایا گیا۔ملائیشین حکومت کا مؤقف ہے کہ واپسی رضاکارانہ ہے، تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ واپس بھیجے جانے والے افراد کو تشدد، تعاقب اور میانمار کی فوج میں جبری بھرتی جیسے خطرات کا سامنا ہوسکتا ہے۔
ملائیشیا نے زیر حراست افراد تک اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین کو رسائی اور ان کی جانچ پڑتال کی اجازت بھی نہیں دی۔ملائیشین وزیراعظم انور ابراہیم کا کہنا ہے کہ میانمار سے آنے والی بڑی تعداد کے باعث ملک میں عوامی مخالفت بڑھ رہی ہے، اس لیے حکومت کے پاس ان کی واپسی کے لیے میانمار کی حکومت سے مذاکرات کے سوا کوئی راستہ نہیں۔رپورٹ کے مطابق یہ واضح نہیں کہ واپس بھیجے جانے والے پہلے گروپ میں روہنگیا مسلمان بھی شامل ہیں یا نہیں۔ میانمار میں روہنگیا کو باقاعدہ شہری تسلیم نہیں کیا جاتا، جبکہ اقوام متحدہ کے مطابق فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں 10 لاکھ سے زائد روہنگیا میانمار چھوڑنے پر مجبور ہوئے اور ان کارروائیوں کو ممکنہ نسل کشی قرار دیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق ملائیشیا میں روہنگیا کی تعداد 2 لاکھ سے زائد بتائی جاتی ہے۔ کووڈ کے بعد معاشی مشکلات اور سیاسی دباؤ کے باعث ان کے خلاف عوامی جذبات میں تبدیلی آئی، جبکہ سماجی رابطوں کی ویب گاہوں پر ان کے خلاف مہمات بھی سامنے آئیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایپل کے نئے سمارٹ ہوم آلات اکتوبر میں متعارف کرانے کا امکان
مئی 2026 میں روہنگیا کے خلاف ایک آن لائن مہم کے بعد انہیں ملک سے نکالنے کے مطالبے کی ایک درخواست پر 4 لاکھ سے زائد دستخط بھی جمع ہوئے، تاہم بعد میں یہ درخواست ہٹا دی گئی۔وزیراعظم انور ابراہیم نے روہنگیا افراد کے ساتھ انسانی سلوک پر زور دیتے ہوئے کہا کہ انہیں گرفتار کیا جاسکتا ہے، لیکن مارا، دھمکایا یا ذلیل نہیں کیا جانا چاہیے۔ دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں نے حراستی مراکز میں حکام کے رویے پر بھی اعتراضات اٹھائے ہیں۔












