لاہور( پاک ترک نیوز) کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ وہ پرندے جو ہزاروں کلومیٹر کا سفر طے کرتے ہیں، آخر اپنا راستہ کیسے تلاش کرتے ہیں؟ نہ ان کے ہاتھ میں موبائل ہوتا ہے، نہ گوگل میپس، نہ جی پی ایس اور نہ ہی کوئی کمپاس۔ اس کے باوجود یہ پرندے طویل سفر کے بعد بالکل درست مقام تک پہنچ جاتے ہیں۔ یہی قدرتی صلاحیت آج بھی سائنسدانوں کے لیے ایک دلچسپ راز بنی ہوئی ہے۔
ذرا تصور کریں۔۔ ایک ننھا سا پرندہ اپنے ٹھکانے سے اڑتا ہے، ہزاروں کلومیٹر کا فاصلہ طے کرتا ہے، سمندر اور پہاڑ عبور کرتا ہے اور پھر موسم بدلنے پر دوبارہ اسی علاقے میں واپس آ جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر اسے اپنی منزل کا راستہ کیسے معلوم ہوتا ہے؟
ماہرین کے مطابق ہجرت کرنے والے پرندے راستہ تلاش کرنے کے لیے صرف ایک ذریعے پر انحصار نہیں کرتے، بلکہ قدرت نے انہیں مختلف نیوی گیشن صلاحیتوں سے نوازا ہے۔ ان میں زمین کے مقناطیسی میدان کو محسوس کرنے کی صلاحیت سب سے حیران کن سمجھی جاتی ہے۔
سائنسدانوں کے مطابق متعدد پرندے اور جانور اپنے جسم میں موجود مخصوص قدرتی نظام کے ذریعے زمین کے مقناطیسی میدان کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ان کے جسم کے اندر ہی ایک قدرتی کمپاس موجود ہو، جو انہیں سمت کا تعین کرنے میں مدد دیتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی کی اسپتال منتقلی کے فیصلے پر عملدرآمد ہونا چاہیے، فریقین فیصلے کو سبوتاژ نہ کریں: بیرسٹر گوہر
تحقیقات کے مطابق کبوتروں میں ایسے حساس نظام پائے گئے ہیں جو سمت کا اندازہ لگانے میں مدد دے سکتے ہیں، جبکہ یورپی رابن جیسے پرندوں کی آنکھوں میں موجود کرپٹوکروم پروٹین بھی مقناطیسی میدان کو محسوس کرنے کے عمل سے منسلک کیے جاتے ہیں۔
لیکن قدرت کا یہ نیوی گیشن سسٹم صرف مقناطیسی میدان تک محدود نہیں۔ رات کے وقت بعض پرندے آسمان کے ستاروں کو بھی اپنی رہنمائی کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ قطبی ستارہ سمت کے تعین میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ حیرت انگیز طور پر کچھ سمندری مخلوقات بھی کھلے سمندر میں ستاروں کی روشنی سے راستہ تلاش کرتی ہیں۔
افریقا میں پائی جانے والی ایک خاص قسم کی گوبر بھنورا بھی آسمان کی روشنی اور کہکشاں کے اشاروں کو استعمال کرتے ہوئے تقریباً سیدھی سمت میں حرکت کر سکتی ہے۔
کئی جانور راستہ یاد رکھنے کے لیے قدرتی نشانات بھی استعمال کرتے ہیں۔ پہاڑ، دریا، ساحلی علاقے اور زمین کی دیگر نمایاں خصوصیات ان کی رہنمائی کرتی ہیں۔ اسی طرح سالمن مچھلی اپنی غیر معمولی سونگھنے کی صلاحیت کی مدد سے برسوں بعد سمندر سے واپس اسی دریا تک پہنچ سکتی ہے جہاں اس نے زندگی کا آغاز کیا تھا۔
قدرت کے یہ حیرت انگیز نظام ثابت کرتے ہیں کہ انسان نے جن ٹیکنالوجیز کے ذریعے آج راستہ تلاش کرنا آسان بنایا ہے، ان میں سے کئی صلاحیتوں کی ایک قدرتی شکل جانوروں میں پہلے ہی موجود تھی۔
شاید یہی وجہ ہے کہ پرندوں اور جانوروں کی حیرت انگیز نیوی گیشن آج بھی سائنسدانوں کے لیے ایک دلچسپ معمّا ہے، اور جدید تحقیق کے باوجود قدرت کے اس پیچیدہ نظام کے کئی راز ابھی تک مکمل طور پر سامنے نہیں آ سکے۔





