لاہور: (پاک ترک نیوز)مورخین کے مطابق بسنت کا آغاز پنجاب سے ہوا۔ یہ تہوار اس وقت منایا جاتا تھا جب کھیتوں میں سرسوں کے پیلے پھول کھلتے تھے۔ اور لوگ بھی پیلے کپڑے پہنتے تھے، اس لیے بسنت کو پیلے رنگ سے جوڑا جاتا ہے۔
لاہور میں بسنت کی تاریخ کم از کم 700 سے 800 سال پر محیط سمجھی جاتی ہے، اور یہ شہر طویل عرصے تک اس تہوار کا سب سے بڑا مرکز رہا ہے۔
سلطنتِ دہلی (13ویں تا 14ویں صدی) کے دور میں لاہور ایک اہم ثقافتی شہر تھا۔ اسی زمانے میں بسنت نے یہاں باقاعدہ تہوار کی شکل اختیار کی۔
روایت ہے کہ حضرت نظام الدین اولیاءؒ کے مرید، امیر خسرو، نے لاہور اور دہلی میں بسنت کو مقبول بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
پیلا لباس پہننے، گیت گانے اور بہار کے استقبال کی روایت کو بھی اسی دور سے منسوب کیا جاتا ہے۔مغلیہ دور میں لاہور دارالحکومت رہا۔
جہانگیر، شاہجہان اور اکبر کے ادوار میں بسنت شاہی سرپرستی میں منائی جاتی تھی۔ شاہی قلعہ، شالامار باغ اور فصیلِ شہر کے اطراف بسنت کے بڑے میلے لگتے تھے۔
مغل دور کے سیاحوں اور مؤرخین کے مطابق لاہور میں بسنت کے موقع پر پتنگ بازی، موسیقی، مشاعرے اور عوامی جشن منعقد کیے جاتے تھے۔
سکھ دور، خصوصاً مہاراجہ رنجیت سنگھ کے زمانے میں بھی لاہور میں بسنت کی روایت برقرار رہی اور اسے شاہی سرپرستی حاصل رہی۔
برطانوی دور میں بسنت ایک عوامی ثقافتی تہوار بن چکی تھی، جس کا مرکز خاص طور پر اندرونِ لاہور تھا۔لاہور میں بسنت ہمیشہ ایک موسمی اور ثقافتی جشن کے طور پر منائی جاتی رہی، جس میں معاشرے کے ہر طبقے کی شرکت ہوتی تھی۔لیکن وقت کے ساتھ یہ کھیل خونی رنگ اختیار کرتا گیا۔
حادثات اور اموات کے باعث اس پر پابندی عائد کر دی گئی۔ تاہم اب ایس او پیز کے تحت لاہوریوں کو بسنت منانے کی اجازت دی گئی ہے، جس پر شہریوں نے مختلف ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔
ایک جانب عوام میں خوشی کی لہر ہے، تو دوسری جانب کچھ لوگ شکوہ کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ بسنت اب ہر طبقے کے لیے ممکن نہیں رہی بلکہ یہ ایک مہنگا شوق بن چکی ہے۔ ایسے میں غریب آدمی کے لیے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ پیٹ بھرے یا پھر پتنگ اُڑائے۔












