لاہور( پاک ترک نیوز) آپ سوئمنگ پول میں ہیں، جم میں ورزش کر رہے ہیں یا کسی ریسٹورنٹ میں بیٹھے ہیں۔ آپ کے اردگرد لوگ موجود ہیں، لیکن آپ کو شاید اندازہ بھی نہ ہو کہ کوئی شخص عام چشمہ پہنے آپ کی ویڈیو بنا رہا ہے! نہ موبائل فون ہاتھ میں، نہ کیمرہ سامنے، بس ایک چشمہ اور اس میں چھپا ہوا کیمرہ!
آسٹریلیا میں ایسے ہی اسمارٹ چشموں نے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ معاملہ اتنا سنگین ہو گیا کہ اب سوئمنگ پولز، جم اور بچوں کے کھیلنے کی جگہوں پر ان چشموں کے استعمال پر پابندیاں لگانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔
آسٹریلیا کی ریاست وکٹوریہ میں 79 مقامی کونسلوں میں سے 16 اسمارٹ چشموں پر پابندی لگانے یا ان کے استعمال کو محدود کرنے کے اقدامات پر غور کر رہی ہیں۔ میلبورن کے بعض عوامی سوئمنگ پولز اور تفریحی مراکز میں ان چشموں کے استعمال سے متعلق پابندی کے بورڈز بھی نصب کیے جا چکے ہیں۔لیکن سوال یہ ہے کہ آخر ان معمول کے دکھائی دینے والے چشموں سے اتنا خوف کیوں پیدا ہو رہا ہے؟دراصل جدید اسمارٹ چشموں میں کیمرے، اسپیکر اور مصنوعی ذہانت کی سہولت موجود ہو سکتی ہے۔ یہ چشمے تصاویر اور ویڈیوز بنانے کے علاوہ اردگرد کے ماحول کو سمجھنے اور تحریر پڑھ کر سنانے میں بھی مدد دے سکتے ہیں۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کسی کی اجازت کے بغیر اس کی ویڈیو بنائی جائے اور اسے معلوم بھی نہ ہو کہ وہ ریکارڈ ہو رہا ہے۔
سوئمنگ پولز اور جم جیسے مقامات پر خواتین اور بچوں کی پرائیویسی کے حوالے سے خدشات مزید بڑھ جاتے ہیں۔ اسی لیے آسٹریلیا میں ان آلات کے استعمال کو محدود کرنے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔مگر اس کہانی کا ایک دوسرا رخ بھی ہے!بصارت سے محروم افراد کے لیے یہی اسمارٹ چشمے کسی نعمت سے کم نہیں۔ آسٹریلیا کی شہری ہیڈی بگن، جو قانونی طور پر نابینا ہیں، ان چشموں کی مدد سے ریسٹورنٹ کا مینو پڑھ سکتی ہیں اور اپنے اردگرد موجود ماحول کے بارے میں معلومات حاصل کر سکتی ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ بعض لوگ انہیں یہ چشمے پہنے دیکھ کر سمجھتے ہیں کہ وہ ان کی ویڈیو بنا رہی ہیں، حالانکہ وہ ان ٹیکنالوجی کی سہولتوں سے اپنی روزمرہ زندگی آسان بنانے کے لیے فائدہ اٹھاتی ہیں۔اب ایک طرف لوگوں کی پرائیویسی کا تحفظ ہے اور دوسری طرف معذور افراد کی آزادی اور سہولت۔ اگر ان چشموں پر مکمل پابندی لگا دی جائے تو ضرورت مند افراد متاثر ہو سکتے ہیں، لیکن اگر کوئی پابندی نہ ہو تو خفیہ ریکارڈنگ کے خدشات برقرار رہ سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی اتحادی فوج نے حوثیوں کے 2ڈرونز تباہ کر دیئے،ریاض کیلئے خطرے کی صورتحال ختم کرنے کا اعلان
اسی لیے آسٹریلیا میں یکساں قومی قوانین بنانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ کہاں ریکارڈنگ کی اجازت ہونی چاہیے اور کہاں نہیں۔اصل سوال یہ ہے کہ مستقبل میں جب کیمرے عام چشموں، گھڑیوں اور دوسرے روزمرہ آلات میں مزید چھپ جائیں گے، تو کیا کوئی شخص یہ جان بھی سکے گا کہ اسے ریکارڈ کیا جا رہا ہے؟ٹیکنالوجی ہماری زندگی آسان بنا رہی ہے، لیکن اس کے ساتھ ایک بڑا چیلنج بھی سامنے آ رہا ہے: کیا ہماری پرائیویسی محفوظ رہے گی، یا اب ہر عام نظر آنے والی چیز ایک خفیہ کیمرہ بن سکتی ہے؟







