
از: سہیل شہریار
حماس کا کہنا ہے کہ اس نے مصر اور قطر کی جانب سے تیار کردہ غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کی نئی تجویز کی منظوری دی ہے۔ جس میں پہلے مرحلے میں 60روز کے لئے جنگ بندی شامل ہے۔
تاہم غزہ میں جنگ بندی کی کوششوں میں مصروف ثالثوں کا کہنا ہے کہ اس تجویز کا اسرائیل نے ابھی تک کوئی باضابطہ جواب نہیں دیا ہے۔جبکہ اسرائیلی وزیر دفاع نے غزہ شہر پر قبضہ کرنے کے اسرائیلی فوج کے منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔
مصر کے وزیر خارجہ بدرعبدالعاطی نے اسرائیل پر جنگ بندی کی تجویز کو قبول کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’بال اسرائیل کے کورٹ میں ہے‘‘۔
غزہ سے آبادی کے انخلاء کے حوالے سے بات کرت ہوئے مصری وزیرِخارجہ نے بتایا کہ ہم نہ اس کو قبول کریں گے۔ نہ ہی اس میں حصہ لینا چاہیں گے۔ بلکہ ہم یہ کہیں گے کہ آبادی کو نکالا جانا فلسطینیوں کے لیے یکطرفہ ٹکٹ ہوگا جس کے بعد ان کا مقصد مکمل طور پر ختم ہوجائے گا۔
جنگ بندی کی نئی تجویز کے بارے میںوائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکی حکام غزہ جنگ بندی کی تجویز پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔جبکہ مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے غزہ کی جنگ روکنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ کی جنگ کو فوری اور ہنگامی بنیادوں پر ختم ہونا چاہیے،اسرائیلی قیدیوں کو ان کے اہل خانہ کے پاس واپس لایا جانا چاہیے۔ اسی طرح مناسب تعداد میں فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا جانا چاہیے اور تباہ حال فلسطینی علاقے کی تعمیر نو کی جانی چاہیے۔
ادھر نیتن یاہو کے دائیں بازو کے اتحاد میںایسے سیاست دان ہیں جو کہتے ہیں کہ وزیر اعظم کے پاس اس طرح کے معاہدے کے لیے کوئی مینڈیٹ نہیں ہے۔
اس معاملے پر نیتن یاہو کا واحد تبصرہ یہ تھاکہ وہ ان رپورٹس کی پیروی کر رہے ہیں کہ حماس نے میز پر موجود فریم ورک پر اتفاق کیاہے۔ تاہم وہ "شدید” دباؤ میںہیں۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ اسرائیلیوں نے تا حال غزہ میں اپنی جنگ کو ختم کرنے کے لیے کسی بھی شکل میں آمادگی کا اشارہ نہیں دیا ہے۔یہ وہ چیز ہے جس میں اسرائیلیوں کو اب بظاہر کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ درحقیقت وہ غزہ شہر پر قبضے اور شمالی غزہ پر قبضے کے ساتھ غزہ میں فوجی کارروائی کو بڑھانے کی بات کر رہے ہیں۔جس کے لئے اسرائیلی فضائیہ نے غزہ سے خان یونس تک بمباری میں اضافہ کر دیا ہے تاکہ وہاں پناہ لئے ہوئے 10لاکھ کے لگ بھگ فلسطینیوں کو جنوب کی جانب منتقل ہونے پر مجبور کیا جا سکے۔
دریں اثنا ذرائع کا کہنا ہے کہ منگل کی صبح سے لے کر اب تک 36گھنٹوں میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے کم از کم 79 فلسطینی جاںبحق ہو چکے ہیں۔شمالی غزہ کے جبالیہ میں العودہ ہسپتال کے ذرائع نے بتایا کہ متاثرین میں چودہ افراد بھی شامل ہیں جو امداد کی تلاش میں تھے جب انہیں اسرائیلی فورسز نے گولی مار کرشہید کر دیا۔












