اسلام آباد (پاک ترک نیوز )پاکستان نے قبل از وقت ملکی قرض کی ادائیگی کا نیا ریکارڈ قائم کر دیا، حکومت نے ایک کھرب 20 ارب روپے یعنی 1.2 ٹریلین روپے قرض مدت پوری ہونے سے پہلے ادا کر دیا۔
وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد کے مطابق اگست 2026 کی ادائیگی اب تک کی سب سے بڑی یکمشت قبل از وقت قرض واپسی ہے۔
اس ادائیگی کے بعد حکومت کی جانب سے قبل از وقت ریٹائر کیے گئے ملکی قرض کا مجموعی حجم تقریباً 5.92 ٹریلین روپے ہو گیا ہے۔
قبل از وقت قرض واپسی کا پروگرام اکتوبر 2024 میں 826 ارب روپے سے شروع ہوا تھا، جبکہ اگست 2025 میں حکومت نے ایک کھرب 13 ارب 30 کروڑ روپے قرض قبل از وقت ادا کیا تھا۔
خرم شہزاد کے مطابق مالی سال 2025 میں تقریباً 1.8 ٹریلین روپے، مالی سال 2026 میں 2.9 ٹریلین روپے جبکہ مالی سال 2027 میں اب تک 1.2 ٹریلین روپے قرض قبل از وقت ادا کیا جا چکا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قبل از وقت قرض کی ادائیگی کا مقصد قرضوں کی ری فنانسنگ اور رول اوور کے خطرات کم کرنا، مستقبل میں قرضوں کی ادائیگی کے دباؤ کو گھٹانا اور حکومت کی مالی پوزیشن مضبوط بنانا ہے۔
وزیر خزانہ کے مشیر کے مطابق حکومت اب صرف قرض کی میچورٹی کا انتظام کرنے کے بجائے ملکی مالیاتی پوزیشن کو فعال طور پر مضبوط بنانے کی جانب بڑھ رہی ہے












