اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) سابق ارکانِ پارلیمنٹ کے زیر کفالت بچوں کو بلیو پاسپورٹ جاری کرنے کی مجوزہ قانون سازی پر شدید عوامی ردِعمل کے بعد حکومت نے بلیو پاسپورٹ کے اجرا کے قواعد مزید سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے کہا ہے کہ آئندہ ہر بلیو پاسپورٹ کی درخواست وزارتِ داخلہ کی منظوری سے مشروط ہوگی۔ ہر کیس پہلے سیکریٹری داخلہ اور ضرورت پڑنے پر وزیر داخلہ کے سامنے پیش کیا جائے گا، تاکہ بلیو پاسپورٹ صرف سرکاری ذمہ داریوں کے لیے اور محدود مدت کے لیے جاری کیا جا سکے۔
یہ وضاحت اس وقت سامنے آئی جب 10 جولائی کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے ایک بل منظور کیا، جس میں سابق ارکانِ پارلیمنٹ کے 28 سال تک کے زیر کفالت بچوں کو بھی بلیو پاسپورٹ دینے کی تجویز دی گئی تھی۔ اگر یہ بل قانون بن گیا تو سابق ارکانِ پارلیمنٹ کو اس حوالے سے ریٹائرڈ گریڈ 22 افسران کے برابر مراعات حاصل ہو جائیں گی۔
طلال چودھری کا کہنا ہے کہ وہ اس تجویز کے حامی نہیں تھے اور انہوں نے معاملہ وفاقی کابینہ اور دیگر متعلقہ اداروں کے سامنے رکھنے کی سفارش کی تھی، تاہم ان کے تحفظات کے باوجود قائمہ کمیٹی نے بل منظور کر لیا۔
وزیر مملکت نے بتایا کہ پاکستان میں بلیو پاسپورٹ رکھنے والوں کی بڑی تعداد کئی ممالک کے ساتھ ویزا فری معاہدوں میں رکاوٹ بن رہی ہے۔ ان کے مطابق ماضی میں بلیو پاسپورٹ ہولڈرز کی تعداد تقریباً 70 ہزار سے کم ہو کر 50 ہزار سے بھی نیچے آ چکی ہے، جبکہ اب اسے مزید 15 سے 20 فیصد تک کم کرنے کا منصوبہ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سعودی عرب کے ساتھ بلیو پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا استثنیٰ کے معاہدے پر بات چیت آخری مراحل میں ہے، جبکہ اٹلی سمیت دیگر ممالک کے ساتھ بھی مذاکرات جاری ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دبئی جانا مزید آسان ہوگیا، ویزا کے حوالے سے بڑی پیشکش
دوسری جانب سینیٹ میں تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر بیرسٹر علی ظفر نے بھی مجوزہ قانون کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ بلیو پاسپورٹ کوئی اعزاز یا ذاتی سہولت نہیں بلکہ صرف سرکاری اور سفارتی فرائض کی انجام دہی کے لیے ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی عہدہ مراعات بڑھانے کے لیے نہیں بلکہ عوام کی خدمت کے لیے ہوتا ہے۔
سرکاری قواعد کے مطابق بلیو پاسپورٹ صدر، وزیراعظم، ارکانِ پارلیمنٹ، اعلیٰ عدلیہ کے ججز، سینئر بیوروکریٹس، مسلح افواج کے اعلیٰ افسران اور دیگر مخصوص سرکاری شخصیات کو جاری کیا جاتا ہے۔ اس پاسپورٹ کے ذریعے حاملین کو دنیا کے 55 ممالک میں ویزا فری یا خصوصی سفری سہولت حاصل ہے، جن میں 22 یورپی ممالک، چین، روس، متحدہ عرب امارات، ترکی، ایران، جنوبی کوریا، ملائیشیا، انڈونیشیا، مصر، برازیل، میکسیکو، تھائی لینڈ، سری لنکا، مالدیپ اور نیپال شامل ہیں۔












