اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) پاکستان میں بجلی صارفین پر 268 ارب روپے کا اضافی بوجھ ڈالنے کی تجویز کی مخالفت کر دی گئی۔ وفاق ایوان ہائے صنعت و تجارت نے بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے گزشتہ برسوں کے اخراجات کی مد میں کیے گئے متنازع دعوے مسترد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔وفاق ایوان ہائے صنعت و تجارت نے قومی برقی توانائی ریگولیٹری اتھارٹی کو جمع کرائی گئی تحریری درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ تقسیم کار کمپنیوں کے متعدد دعوے پہلے ہی مسترد کیے جا چکے ہیں، بعض پر تیسرے فریق نے اعتراضات اٹھائے ہیں، جبکہ کئی دعووں کی تصدیق کے لیے مطلوبہ تفصیلات بھی فراہم نہیں کی گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: افغانستان میں بچوں کے خلاف سنگین جرائم کے 4582 واقعات
درخواست کے مطابق بجلی کی دس تقسیم کار کمپنیوں نے سال 2027 کے لیے مجموعی طور پر 2 ہزار 640 ارب روپے کے آمدنی اخراجات طلب کیے ہیں۔ ان میں گزشتہ برسوں کے اخراجات کی مد میں سینکڑوں ارب روپے صارفین سے وصول کرنے کی تجاویز بھی شامل ہیں۔وفاق ایوان ہائے صنعت و تجارت کے جائزے کے مطابق اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی کے گزشتہ برسوں کے اخراجات کے دعوے اس کے مجوزہ سالانہ تقسیم کاری منافع کے 212 فیصد سے بھی زیادہ ہیں، جبکہ سکھر الیکٹرک کمپنی کے دعوے اس کے تقسیم کاری منافع کے 113 فیصد تک پہنچ گئے ہیں۔
فیصل آباد الیکٹرک کمپنی کے دعوے اس کے تقسیم و ترسیل کے منافع کے 91 فیصد، ملتان کے 68 فیصد اور کوئٹہ کے 60 فیصد کے برابر ہیں۔












