لاہور( پاک ترک نیوز) سوچیے۔۔۔ ایک ایسا جوہری ری ایکٹر جو کسی بڑے بجلی گھر کی طرح ایک ہی جگہ نصب رہنے کے بجائے، ایندھن سمیت ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جاسکے۔۔۔اور حیرت انگیز بات یہ کہ اسے جوہری زنجیری عمل شروع کرنے کے مرحلے تک پہنچنے میں صرف 150 دن لگے امریکا اب اس انوکھی جوہری بیٹری کو مکمل طاقت پر چلانے جارہا ہے۔۔۔ اور اصل امتحان 2027 میں ہوگا۔امریکا نے جوہری توانائی کی دنیا میں ایک اور بڑا قدم اٹھا دیا۔۔۔ڈیپلائبل انرجی کی تیار کردہ یونٹی نیوکلیئر بیٹری نے تقریباً 150 دن میں وہ مرحلہ عبور کرلیا جس میں ری ایکٹر قابو میں رہتے ہوئے مسلسل جوہری زنجیری عمل برقرار رکھنے کے قابل ہوجاتا ہے۔
اب سوال یہ ہے۔۔۔کیا یہ چھوٹا سا جوہری ری ایکٹر واقعی مکمل طاقت پر بجلی پیدا کرسکے گا؟جواب جاننے کے لیے 2027 میں آئڈاہو نیشنل لیبارٹری میں اس کا بڑا تجربہ کیا جائے گا۔منصوبہ انتہائی غیر معمولی ہے۔۔۔پہلے ری ایکٹر کو کارخانے میں ہی جوہری ایندھن سے بھرا جائے گا۔۔۔پھر اسی حالت میں اسے لیبارٹری تک منتقل کیا جائے گا۔۔۔تجرباتی مرکز میں نصب کرکے مکمل طاقت پر چلایا جائے گا۔۔۔اور اس کے بعد دوبارہ دوسری جگہ منتقل کرکے پورے عمل کو جانچا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کو موجودہ بحران سے نکالنے کے لیے عمران خان کی قیادت ضروری ہے،سہیل آفریدی
یعنی صرف ری ایکٹر نہیں۔۔۔ایندھن بھرنے، منتقلی، تنصیب، مکمل طاقت پر آپریشن اور دوبارہ منتقلی۔۔۔ سب کچھ آزمایا جائے گا۔یہ ٹیکنالوجی کامیاب ہوگئی تو جوہری بجلی گھر کا روایتی تصور بدل سکتا ہے۔بڑے پیمانے پر تعمیر ہونے والے مستقل بجلی گھروں کے بجائے ایسے چھوٹے ری ایکٹر صنعتی مراکز، بحری جہازوں اور دور دراز علاقوں تک بجلی پہنچانے کے لیے استعمال ہوسکتے ہیں۔جہاں بجلی کا روایتی نظام پہنچانا مشکل ہو۔۔۔وہاں ایک قابلِ منتقلی جوہری توانائی کا نظام نیا راستہ کھول سکتا ہے۔لیکن اصل فیصلہ 2027 کے تجربے میں ہوگا۔۔۔اگر یونٹی نیوکلیئر بیٹری مکمل طاقت پر کامیاب رہی اور اسے ایندھن سمیت ایک مقام سے دوسرے مقام تک محفوظ انداز میں منتقل کرنا ممکن ثابت ہوا۔۔۔تو جوہری توانائی کی دنیا میں چھوٹے، قابلِ منتقلی ری ایکٹروں کا ایک نیا دور شروع ہوسکتا ہے۔












