کراچی ( پاک ترک نیوز) پاکستان کے نامور مزاحیہ اداکار، کامیڈین، ہدایت کار اور میزبان عمر شریف کو مداحوں سے بچھڑے پانچ برس بیت گئے، لیکن ان کا منفرد مزاح، برجستہ جملے اور بے مثال اداکاری آج بھی لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹ بکھیرتی ہے۔
عمر شریف نے پاکستانی اسٹیج، ٹیلی وژن اور فلم کے ذریعے مزاحیہ فن کو نئی پہچان دی۔ ان کا شمار ان فنکاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے نہ صرف پاکستان بلکہ بیرون ملک بھی پاکستانی کامیڈی کو مقبول بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔عمر شریف نے کم عمری میں فنی سفر کا آغاز کیا اور اسٹیج کو اپنی پہچان بنایا۔ اپنی برجستہ اداکاری، حاضر جوابی اور منفرد انداز کے باعث وہ دیکھتے ہی دیکھتے اسٹیج کامیڈی کے مقبول ترین فنکار بن گئے۔
بکراقسطیں، بڈھا گھر پہ ہے، دلہن میں لے کر جاؤں گا سمیت متعدد اسٹیج ڈراموں نے عمر شریف کو گھر گھر پہنچایا۔ ان کے ڈراموں میں روزمرہ زندگی کے مسائل، معاشرتی رویوں اور انسانی کمزوریوں کو مزاح کے پیرائے میں پیش کیا جاتا تھا، جس سے ناظرین بھرپور محظوظ ہوتے۔عمر شریف نے صرف اداکاری تک خود کو محدود نہیں رکھا بلکہ ہدایت کاری، تحریر اور میزبانی میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ ان کے پروگرام دی شریف شو نے بھی انہیں ٹیلی وژن کی دنیا میں ایک منفرد شناخت دی۔فلمی دنیا میں بھی عمر شریف نے اپنی مزاحیہ اداکاری کے ذریعے شائقین کو محظوظ کیا۔ ان کی فلم مسٹر 420 کو خاص طور پر مقبولیت حاصل ہوئی اور اس فلم نے انہیں بین الاقوامی سطح پر بھی نمایاں کیا۔ عمر شریف کو ان کی فنی خدمات کے اعتراف میں مختلف اعزازات سے نوازا گیا۔ان کا فن صرف ہنسانے تک محدود نہیں تھا۔ عمر شریف معاشرتی مسائل پر بھی اپنے مخصوص انداز میں بات کرتے تھے۔ ان کی کامیڈی میں برجستگی کے ساتھ ساتھ معاشرے کی عکاسی بھی دکھائی دیتی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: مارکو روبیو کا ایرانی وفد کو امریکا چھوڑنے کا حکم
عمر شریف نے کئی دہائیوں تک پاکستانی شوبز پر راج کیا اور متعدد فنکاروں کو اسٹیج پر مواقع فراہم کیے۔ ان کے اندازِ اداکاری نے کامیڈی کی ایک ایسی روایت قائم کی جس سے بعد میں آنے والے کئی فنکار متاثر ہوئے۔عمر شریف طویل علالت کے بعد 2 اکتوبر 2021 کو جرمنی میں انتقال کر گئے۔ وہ علاج کے لیے امریکا جارہے تھے تاہم طبیعت خراب ہونے پر انہیں جرمنی کے اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ جانبر نہ ہوسکے۔ان کے انتقال کو پانچ برس گزر چکے ہیں، مگر عمر شریف کا فن آج بھی زندہ ہے۔ ان کے پرانے ڈرامے، مکالمے اور مزاحیہ خاکے آج بھی سوشل میڈیا اور مختلف ذرائع پر دیکھے جاتے ہیں۔











