ماسکو / دمشق:(پاک ترک نیوز)ایران کے خلاف امریکا کی ممکنہ عسکری کارروائی کے خدشات کے تناظر میں روس نے شام میں موجود اپنے فوجی اڈوں کے تحفظ کے لیے سیکیورٹی اقدامات میں تیزی کر دی ہے۔
خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث ماسکو اپنی عسکری موجودگی کو محفوظ بنانے پر خاص توجہ دے رہا ہے۔اسی پس منظر میں شامی صدر احمد الشرع نے ماسکو کا دورہ کیا جہاں ان کی روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے اہم ملاقات ہوئی۔ ملاقات میں شام کی سیکیورٹی صورتحال، علاقائی پیش رفت اور دونوں ممالک کے مستقبل کے تعاون پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ملاقات سے قبل مشترکہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شامی صدر نے روس کی جانب سے شام کی خودمختاری، اتحاد اور استحکام کی حمایت پر صدر پیوٹن کا شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ روس نے نہ صرف شام بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ میں استحکام کے لیے ایک مؤثر کردار ادا کیا ہے، جسے شامی عوام قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔احمد الشرع نے کہا کہ مشکل حالات میں روس کی سیاسی اور عسکری معاونت شام کے لیے فیصلہ کن ثابت ہوئی اور اس تعاون نے ملک کو بڑے بحرانوں سے نکلنے میں مدد دی۔ذرائع کے مطابق دونوں رہنماؤں کی ملاقات مثبت ماحول میں اختتام پذیر ہوئی، جس میں دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور دفاعی و سیاسی تعاون کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔دوسری جانب کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے ملاقات سے قبل بتایا کہ بات چیت میں شام میں روسی افواج کی موجودگی، موجودہ سیکیورٹی چیلنجز اور خطے میں تیزی سے بدلتے حالات کو مرکزی حیثیت حاصل ہوگی۔حکام کے مطابق روس نے حالیہ دنوں میں کردوں کے زیرِ انتظام شمال مشرقی شام کے شہر قمشلی کے ہوائی اڈے سے اپنی فوجی نفری واپس بلا لی ہے، جس کے بعد بحیرۂ روم کے خطے میں روس کے صرف دو بڑے فوجی اڈے فعال رہ گئے ہیں۔ان باقی ماندہ اڈوں کی حفاظت مزید سخت کرنے پر غور جاری ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مشرقِ وسطیٰ میں ممکنہ تصادم اور غیر یقینی صورتحال میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ماہرین کے مطابق ایران، امریکا اور خطے کی دیگر طاقتوں کے درمیان بڑھتی کشیدگی روس کے لیے شام میں اپنی عسکری موجودگی کو ایک حساس معاملہ بنا چکی ہے، جس کے باعث ماسکو پیشگی حفاظتی اقدامات کو ناگزیر سمجھ رہا ہے۔












