
از: سہیل شہریار
کانگریس کے قانونی نوٹیفکیشن کے عمل کی تکمیل پر امریکہ کی جانب سے پاکستان کےایف۔ 16 لڑاکا طیاروں کے بیڑے کے لیے 68کروڑ60لاکھ ڈالر کے فوجی اپ گریڈ پیکج کو حتمی منظوری مل گئی ہے۔جس سے یہ طیارے 2040تک قابل استعمال رہیں گے۔
ایف ۔16لڑاکا طیارے بنانے والی امریکی کمپنی لاک ہیڈ مارٹن دنیا بھر میں ایف۔16طیارے استعمال کرنے والی فضائی افواج کیلئے اس کے ڈیزائن، اپ گریڈ اور پائیداری کے پروگرام کے لیے بھی ذمہ دار ہے۔ اور یہی کمپنی مجوزہ فروخت کے لیے پرنسپل کنٹریکٹر نامزد کی گئی ہے۔
امریکی ڈیفنس سکیورٹی کوآپریشن ایجنسی (ڈی ایس سی اے) کی جانب سے مسلسل منظوری اور حمایت کے باوجودبائیڈن انتظامیہ کی جانب سے مسلسل انکار کے بعدپاکستان کے ایف۔ 16جہازوں کی اپ گریڈنگ کے لئے دفاعی پیکیج کی منظوری صدر ٹرمپ نے نومبر میں دی تھی ۔جس کی حتمی منظوری کے لئے کانگریس کو نوٹس جاری کیا گیا تھا۔اب اس کی ایک ماہ کی مدت مکمل ہونے پر ڈی ایس سی اے نےایف۔ 16 کے ہارڈویئر، سافٹ ویئر اپ گریڈ اور پائیداری کی معاونت کے لیے 686 ملین ڈالر کے فوجی پیکیج کی پاکستان کی درخواست کو منظور کیاہے۔
یہ پروگرام عام طور پر خریداری کرنے والے ملک کے اپنے فنڈز، یا امریکی قرضوں یا گرانٹس پر انحصار کرتے ہیں۔ جہاں تک پاکستان کےایف۔ 16 کی اپ گریڈنگ کے پیکج کا معاملہ ہےتو یہ صدر اور محکمہ خارجہ سے پہلے ہی ایگزیکٹو سطح پر منظور ہو چکاہے۔
امریکی کانگرس کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ مجوزہ فروخت کا مقصد پاکستان کے بلاک-52 اور مڈ لائف اپ گریڈایف۔ 16 طیاروں کی سروس لائف کو 2040 تک بڑھانا ہےاور اسکے ذریعےپاک فضائیہ کی امریکی اور اتحادی فورسز کے ساتھ عملی معاونت کو محفوظ رکھنا ہے۔
ایف ۔16کے پیکیج میںبڑے دفاعی سازوسامان کی کل مالیت کا37ملین ڈالرکا حصہ ہے۔ اور باقی649ملین ڈالر میں پائیداری، تجدید کاری اور جدید کاری کی خدمات شامل ہیں۔پیکج میں انضمام اور جانچ کے لیے92لنک۔16 ٹیکٹیکل ڈیٹا لنک سسٹم اور چھ 500پاؤنڈ وزنی انرٹ ایم کے۔82بموں کی باڈیزکے علاوہ ایویونکس اپ گریڈ، محفوظ مواصلات اور نیویگیشن آلات، خفیہ آلات اور مشن کی منصوبہ بندی کرنے والے ٹولز کے ساتھ ساتھ سافٹ ویئر اور ہارڈویئر کی اپ گریڈنگ ،تربیتی نظام، گولہ بارود کی جانچ اور دوبارہ پروگرام کرنے کا سامان، اور متعلقہ اسپیئر پارٹس بھی شامل ہیں۔
پیکیج کےحساس اجزاء میں دوست یا دشمن کی شناخت کے موڈ-5 نظام، ہینڈ ہیلڈ کلیدی لوڈرز، اور گولہ بارود کے بلٹ ان ٹیسٹ فنکشنز کے لیے ری پروگرامنگ کا سامان شامل ہیں۔ جبکہ کچھ اشیاء کو خفیہ کے طور پر درجہ بند کیا گیا ہے۔
اپنے سرکاری بیان میں ڈی ایس سی اےنے کہا ہے کہ یہ فروخت امریکی خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے مقاصد کی حمایت کرے گی اور پاکستان کو واشنگٹن اور شراکت دار افواج کے ساتھ باہمی تعاون کو برقرار رکھنے کے قابل بنائے گی۔یہ پیکیج یہ انسداد دہشت گردی کی جاری کوششوں میں تعاون کو مضبوط کرے گا اور مستقبل کی ہنگامی کارروائیوں کی تیاری میں مدد کرے گا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستان کے ایف۔ 16 فضائی بیڑے کی تزئین و آرائش اور اپ گریڈنگ سے فلائٹ سیفٹی کے اہم خدشات دور ہوں گے اور جنگی کارروائیوں، مشقوں اور تربیت کے دوران پاک فضائیہ اور امریکی فضائیہ کے درمیان انضمام اور باہمی تعاون کو بہتر بنایا جائے گا۔












