لاہور( پاک ترک نیوز) فلکیات کے شوقین افراد کے لیے دو اگست 2027 ایک تاریخی دن ثابت ہونے جا رہا ہے، جب دنیا آئندہ کئی دہائیوں کے طویل ترین مکمل سورج گرہن کا مشاہدہ کرے گی۔ امریکی خلائی ادارے کے مطابق یہ سورج گرہن اپنے عروج پر چھ منٹ اور تئیس سیکنڈ تک جاری رہے گا، جو اسے اس صدی کے نمایاں فلکیاتی واقعات میں شامل کرتا ہے۔
مکمل سورج گرہن اس وقت وقوع پذیر ہوتا ہے جب چاند زمین اور سورج کے عین درمیان آ جاتا ہے، جس کے باعث سورج مکمل طور پر ڈھک جاتا ہے اور دن کے وقت چند منٹ کے لیے اندھیرا چھا جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق 2024 میں دیکھا جانے والا مکمل سورج گرہن صرف چار منٹ اٹھائیس سیکنڈ تک جاری رہا تھا، جبکہ 2027 کا گرہن اس سے کہیں زیادہ طویل ہوگا۔ فلکیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ 2027 کے بعد اتنا طویل مکمل سورج گرہن سال 2114 سے پہلے دوبارہ دیکھنے کو نہی…
یہ نایاب سورج گرہن افریقہ، یورپ اور مشرقِ وسطیٰ کے متعدد علاقوں میں مکمل طور پر دیکھا جا سکے گا، جہاں لاکھوں افراد دن کے وقت اچانک اندھیرا چھانے کا حیرت انگیز منظر دیکھ سکیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا ایٹمی تباہی کے قریب، سب سے خطرناک ہتھیار کس کے پاس؟ ہوشربا رپورٹ آگئی
امریکا میں اس گرہن کا مکمل منظر نظر نہیں آئے گا، تاہم ریاست مین کے بعض علاقوں میں سورج کا جزوی گرہن مختصر وقت کے لیے دیکھا جا سکے گا۔
ماہرین فلکیات کا کہنا ہے کہ سورج گرہن کو براہِ راست ننگی آنکھ سے دیکھنا آنکھوں کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے، اس لیے صرف منظور شدہ حفاظتی چشموں یا خصوصی فلٹرز کے ذریعے ہی اس کا مشاہدہ کیا جانا چاہیے۔
ماہرین کے مطابق دو اگست 2027 کا یہ فلکیاتی منظر دنیا بھر کے سائنس دانوں، فوٹوگرافروں اور آسمان کے شوقین افراد کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے اور توقع ہے کہ اس موقع پر لاکھوں افراد مختلف ممالک کا سفر کر کے اس تاریخی سورج گرہن کا مشاہدہ کریں گے۔










