اسلام آباد (پاک ترک نیوز )سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا ہے کہ صوبے میں ایمرجنسی لگانے کا فیصلہ عوام کے مفاد میں کیا گیا ہے، ساٹھ دن کے اندر نتائج سامنے آنا شروع ہو جائیں گے، نئے انتظامی نظام کو ایک سو اسی دن کا ہدف دیا گیا ہے، ناکامی کی کوئی گنجائش نہیں، سو فیصد کامیابی درکار ہے۔
نیوز کانفرنس کرتے ہوئے فیصل واوڈا نے پاکستان تحریک انصاف پر دہشت گردوں سے گٹھ جوڑ کا الزام عائد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اب کوئی کسی کا نعرہ لگا کر لوگوں کو اپنے پیچھے نہیں چلا سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ نئے نظام نے کارکردگی نہ دکھائی تو مزید بہتر لوگوں کو ذمہ داریاں دی جائیں گی۔
فیصل واوڈا نے سخت زبان استعمال کرتے ہوئے کہا کہ قومی ترانے، قومی پرچم اور شہدا کے خلاف بات کرنے والوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ شہدا کے اہل خانہ کے لیے فنڈز موجود نہیں، جبکہ بعض لوگ اپنی عیاشیوں میں مصروف ہیں، ایسا مزید نہیں چلے گا۔
سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا کہ چار سو افراد کو لے جا کر ملک میں طوفان برپا کرنے کی کوشش کی گئی۔ یہ ملک نہ کسی کے باپ کی جاگیر ہے اور نہ کسی سیاسی رہنما کی۔ ان کا کہنا تھا کہ فوج قربانیاں بھی دے، ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچائے اور سرمایہ کاری بھی لائے، تو ان قربانیوں کی قدر کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جو شہدا کے خلاف بات کرے گا، اس کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔ سپہ سالار نے ملک کو جو کامیابیاں دلائی ہیں، ان کی اور شہدا کی قربانیوں کی قدر کرنا ہوگی۔
فیصل واوڈا نے خبردار کیا کہ ابھی صرف پہلا مرحلہ سامنے آیا ہے، اس کے بعد مزید اقدامات بھی ہو سکتے ہیں۔ ان کے بقول پورا نظام نئے سرے سے ترتیب دیا جائے گا۔ انہوں نے تحریک انصاف کے رہنماؤں اور کارکنوں کو مشورہ دیا کہ اگر وہ عوام کی خدمت کرنا چاہتے ہیں تو الگ سیاسی جماعت بنا لیں۔












