تہران ( پاک ترک نیوز) ایران کے صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ مفاہمتی یادداشت کی تمام شقیں ایران کے حق میں ہیں اور جلد ہی اس معاہدے کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔
ایرانی صدر نے امریکا کے ساتھ ہونے والے ابتدائی معاہدے کے بارے میں مزید تفصیلات جاری کرتے ہوئے دعویٰ کہ مفاہمتی یادداشت کی تمام شقیں ایران کے حق میں ہیں اور جلد ہی اس معاہدے کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔
ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ایرانی صدر پزشکیان نے بتایا کہ قطر میں موجود ایران کے 6 ارب ڈالر کے منجمد فنڈز معاہدے کے تحت واپس کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ رقم ایران کا حق ہے اور اس کی واپسی ایرانی معیشت کے لیے اہم پیش رفت ثابت ہوگی۔
مسعود پزشکیان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ مؤقف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ نے ماضی میں ایران پر کئی پابندیاں عائد کی تھیں اور بعض سرگرمیوں سے روکنے کی بات کی تھی، تاہم اب وہی حقوق ایرانی عوام کے جائز حقوق کے طور پر تسلیم کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکا کے ساتھ حالیہ مذاکرات اور معاہدے کے ذریعے ایران نے اہم سفارتی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے نتائج جلد عوام کے سامنے آئیں گے اور یہ واضح ہو جائے گا کہ ایران نے اپنے قومی مفادات کا بھرپور دفاع کیا ہے۔
مسعود پزشکیان کا مزید کہنا تھا کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو پر بھی تنقید کی اور کہا کہ سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات سے سب سے زیادہ ناخوش شخصیت نیتن یاہو ہوں گے، کیونکہ وہ ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی پیش رفت کے مخالف رہے ہیں۔
انہوں نے سابق ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے فتویٰ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران کی مذہبی قیادت بارہا واضح کر چکی ہے کہ جوہری ہتھیاروں کی تیاری اور استعمال اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران ،امریکا آج مذاکرات ،جے ڈی وینس سوئٹزر لینڈ پہنچ گئے
مسعود پزشکیان نے مزید کہا کہ امریکا کی بنیادی شرط صرف یہ ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کرے۔ انہوں نے زور دیا کہ ایران کا مؤقف ہمیشہ یہی رہا ہے کہ وہ ایٹم بم بنانے کا ارادہ نہیں رکھتا۔
صدر پزشکیان کے مطابق امریکا نے ایران کے مؤقف کو تحریری شکل دینے کی درخواست کی، جس کے بعد دونوں فریقوں نے دستاویز پر دستخط کیے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر معاہدے پر مکمل عمل درآمد ہوتا ہے تو یہ ایران اور امریکا کے تعلقات میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے، جبکہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور اقتصادی پابندیوں میں نرمی کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے۔












