واشنگٹن : (پاک تر ک نیوز)امریکا نے خاموشی کے ساتھ ایسا قدم اٹھا لیا ہے جو عالمی طاقتوں کے توازن کو ہلا کر رکھ سکتا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا نے چین کے ساتھ ممکنہ تائیوان جنگ کے پیشِ نظر آسٹریلیا کے قریب 4 ایٹمی آبدوزیں تعینات کرنے کا منصوبہ بنا لیا ہے، جن میں سے پہلی آبدوز 2027ء تک وہاں پہنچ سکتی ہے۔
یہ آبدوزیں صرف نگرانی نہیں، بلکہ براہِ راست جنگی کارروائی کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں۔اسی دوران مشرقِ وسطیٰ میں بھی طاقت کا خوفناک مظاہرہ سامنے آ گیا ہے۔
اطلاعات ہیں کہ امریکا نے ایک اور انتہائی مہلک ایٹمی آبدوز خطے میں یا اس کے قریب تعینات کر دی ہے، جو 150 سے زائد ٹوماہاک کروز میزائلوں سے لیس ہے۔ یہ آبدوز کوئی عام نہیں۔
یہ Ohio-class گائیڈڈ میزائل سب میرین ہے، جو امریکی بحریہ کا سب سے زیادہ مسلح روایتی حملہ آور پلیٹ فارم سمجھی جاتی ہے۔
یہ آبدوزیں اصل میں ایٹمی بیلسٹک میزائل لے جانے کے لیے بنائی گئی تھیں، لیکن بعد میں انہیں جدید انداز میں تبدیل کر کے ٹوماہاک میزائلوں کا قاتل خزانہ بنا دیا گیا۔
ان آبدوزوں میں موجود 24 میزائل ٹیوبز میں سے 22 کو عمودی لانچ سسٹم میں بدل دیا گیا ہے، اور ہر ٹیوب میں سات ٹوماہاک میزائل فِٹ کیے گئے ہیں۔ یعنی ایک ہی آبدوز 154 میزائل داغنے کی صلاحیت رکھتی ہے، جو پورے امریکی بیٹل گروپ کے برابر سمجھی جاتی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ خاموش تعیناتی صرف ایک پیغام ہے: امریکا بیک وقت چین، ایران اور پورے مشرقِ وسطیٰ کو وارننگ دے رہا ہے۔
سوال اب یہ نہیں کہ جنگ ہوگی یا نہیں، سوال یہ ہے کہ پہلا دھماکا کہاں ہوگا؟ دنیا پانی کے نیچے چھپے ان قاتل ہتھیاروں کے سائے میں سانس لے رہی ہے اور ایک غلط فیصلہ، پوری دنیا کو آگ میں جھونک سکتا ہے۔












