نیویارک(پاک ترک نیوز )بین الاقوامی خلائی اسٹیشن سے ناسا کی خلا باز جیسیکا میئر نے ہمالیہ کے برف پوش پہاڑوں اور ان پر موجود گلیشیئرز کی ایک دلکش تصویر کھینچی، جس نے زمین کے اس عظیم پہاڑی سلسلے کا منفرد منظر پیش کیا۔
یہ تصویر مئی 2026 میں زمین سے تقریباً 417 کلومیٹر بلندی پر موجود خلائی اسٹیشن سے لی گئی، جس میں ہمالیہ کے شمالی دامن چین کی جانب پھیلے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، جبکہ پہاڑوں کی چوٹیوں پر موجود برفانی دریا آہستہ آہستہ نشیب کی طرف بہتے نظر آتے ہیں۔
ہمالیہ دنیا کا بلند ترین پہاڑی سلسلہ ہے، جو نیپال اور چین کے تبتی سطح مرتفع کے درمیان قدرتی سرحد بناتا ہے۔ اسی سلسلے میں دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ بھی واقع ہے۔ ہمالیہ میں سطح سمندر سے 7 ہزار 300 میٹر سے زیادہ بلند 110 سے زائد چوٹیاں موجود ہیں۔
یہ عظیم پہاڑی سلسلہ پاکستان، چین، بھارت، نیپال اور بھوٹان سمیت پانچ ممالک تک پھیلا ہوا ہے اور اس کی مجموعی لمبائی تقریباً 2 ہزار 400 کلومیٹر ہے۔
ماہرین کے مطابق خلا سے لی گئی یہ تصویر اس لیے غیر معمولی ہے کیونکہ اس میں ہمالیہ کے ایک وسیع حصے کو ایک ساتھ دیکھا جا سکتا ہے، جو زمین یا ہیلی کاپٹر سے ممکن نہیں۔ اس منفرد زاویے سے گلیشیئرز کی حرکت اور برفانی بہاؤ کا بہتر اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ خلا سے حاصل ہونے والی ایسی تصاویر ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات کو سمجھنے میں نہایت اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ بڑھتے ہوئے عالمی درجہ حرارت کے باعث گلیشیئرز کے پگھلنے اور سمندری سطح میں اضافے کا جائزہ لینے کے لیے خلائی مشاہدات انتہائی مفید ثابت ہو رہے ہیں۔
سائنس دانوں کے مطابق گلیشیئرز کی نقل و حرکت، پگھلنے کی رفتار اور ان میں آنے والی تبدیلیوں کی مسلسل نگرانی سے مستقبل میں ماحولیاتی خطرات کا بہتر اندازہ لگایا جا سکتا ہے، جس سے انسانوں اور قدرتی ماحول کے تحفظ کے لیے مؤثر منصوبہ بندی میں مدد مل سکتی ہے۔







