مزید 36 سیٹلائٹس خلا میں بھیج دیئے، جس کے بعد اس میگا سیٹلائٹ نیٹ ورک میں شامل سیٹلائٹس کی تعداد 200 ہو گئی
بیجنگ ( پاک ترک نیوز) چین کا چیان فان سیٹلائٹ منصوبہ تیزی سے آگے بڑھنے لگا، ۔ چین نے دو الگ لانچز کے ذریعے مزید 36 سیٹلائٹس خلا میں بھیج دیئے، جس کے بعد اس میگا سیٹلائٹ نیٹ ورک میں شامل سیٹلائٹس کی تعداد 200 ہو گئی ۔
رپورٹ کے مطابق اے سکس راکٹ نے شمالی چین کے تائی یوان سیٹلائٹ لانچ سینٹر سے پرواز کی اور 18 سیٹلائٹس کو کامیابی سے قطبی مدار میں پہنچایا۔ اس کے ایک دن بعد جنوبی چین کے ہینان کمرشل اسپیس لانچ سائٹ سے لانگ مارچ 8 راکٹ نے مزید 18 سیٹلائٹس مدار میں نصب کیے۔
یہ دونوں مشن شنگھائی اسپیس کام سیٹلائٹ ٹیکنالوجی یا اسپیس سیل کے چیان فان منصوبے کا حصہ تھے، جس کا مقصد دنیا بھر میں تیز رفتار، کم تاخیر اور انتہائی قابلِ اعتماد سیٹلائٹ انٹرنیٹ خدمات فراہم کرنا ہے۔
چینی کمپنی اسپیس سیل کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ عالمی سطح پر براڈ بینڈ انٹرنیٹ کی فراہمی کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔ منصوبے کے تحت مستقبل میں 10 ہزار سے زائد سیٹلائٹس خلا میں بھیجنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
اگست 2024 میں اس منصوبے کا پہلا لانچ کیا گیا تھا، تاہم بعد ازاں کچھ عرصہ تعطل کا شکار رہا۔ اب صورتحال یہ ہے کہ صرف 7 اپریل 2026 کے بعد سے چھ لانچز مکمل کیے جا چکے ہیں، جو منصوبے کی رفتار میں نمایاں اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔
چین نہ صرف سیٹلائٹ انٹرنیٹ بلکہ خلائی ٹیکنالوجی کے شعبے میں بھی بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ حالیہ ہفتوں میں مختلف راکٹ پروگراموں کی کامیاب آزمائشوں نے یہ واضح کر دیا ہے کہ بیجنگ مستقبل میں دوبارہ قابلِ استعمال راکٹس اور بڑے سیٹلائٹ نیٹ ورکس کے ذریعے عالمی خلائی دوڑ میں اپنی برتری قائم رکھنا چاہتا ہے۔
ماہرین کے مطابق چیان فان منصوبے کی تیز رفتار توسیع اس بات کا اشارہ ہے کہ چین مستقبل میں عالمی سیٹلائٹ انٹرنیٹ مارکیٹ میں نمایاں کردار ادا کرنے کی تیاری کر رہا ہے، جہاں اس کا مقابلہ براہِ راست دیگر عالمی سیٹلائٹ نیٹ ورکس سے ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: چین کے ژانگ یمنگ نے مکیش امبانی کو پیچھے چھوڑ دیا،ایشیا کے دوسرے امیر ترین شخص بن گئے












