اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے گورنر راج، معدنی ذخائر، آئین اور جمہوریت سے متعلق سوالات اٹھا دیے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ پہلے ہی خبردار کرتے رہے ہیں کہ عالمی طاقتوں کی پاکستان کے معدنی ذخائر پر نظر ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے سوال کیا کہ گورنر راج کے بعد معدنیات کا معاملہ کس نے اٹھایا، ہم نے یا حکومت نے؟ انہوں نے کہا کہ ایک طرف گورنر نے معدنیات کی بات کی، تو دوسری طرف امریکی سفیر کی جانب سے بھی معدنی ذخائر کا معاملہ سامنے آیا۔صدر مملکت کے اطمینان سے متعلق آئینی معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ آئین صدر کے اطمینان کی بات کرتا ہے، لیکن صدر کے دستخط سے متعلق دستاویز میں اطمینان کا لفظ موجود نہیں۔انہوں نے کہا کہ مفتی محمود مرکز کو بچانے کے لیے کارکنوں کو لانا پڑا، ہم نے کوئی تجاوز نہیں کیا بلکہ حکومت نے تجاوز کیا۔ ان کا الزام تھا کہ اب جمعیت علمائے اسلام کو بھی روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ ڈپٹی کمشنرز کو یہ ہدایات کون دے رہا ہے۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ان کے جلسے روکنے کی کوشش کی گئی تو اس کا جواب دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت ٹکراؤ چاہتی ہے تو وہ اس کے لیے تیار ہیں۔انہوں نے معدنی ذخائر تک رسائی کے حوالے سے بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ کیا گورنر راج معدنی ذخائر تک رسائی حاصل کرنے کے لیے لگانا مقصود تھا؟
یہ بھی پڑھیں: حکومت مافیا کو تحفظ دے رہی ہے، عوام کو قربانی کا بکرا بنایا جا رہا ہے، حافظ نعیم الرحمن
سربراہ جے یو آئی نے ملکی سیاسی صورت حال پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ملک میں نہ آئین ہے اور نہ جمہوریت۔ انہوں نے نئے میثاقِ جمہوریت کی ضرورت پر زور دیا۔مولانا فضل الرحمان نے اپنے خطاب میں کہا کہ اگر انہیں ذلیل کرنے کی کوشش کی جائے تو وہ اس کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں، لیکن وہ تاریخ کے ہاتھوں ذلیل ہونا نہیں چاہتے۔نوٹ: معدنی ذخائر، گورنر راج اور امریکی سفیر سے متعلق بیانات مولانا فضل الرحمان کے خطاب سے منسوب ہیں؛ ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق اس متن کی بنیاد پر نہیں کی گئی۔












