اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن کی جانب سے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کو معدنی وسائل پر قبضے سے جوڑنا افسوسناک ہے، دہشت گردی جیسے سنگین قومی مسئلے کو سیاسی الزامات کی نذر کرنے کے بجائے اس کے خاتمے کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔سماجی رابطے کی ویب گاہ پر اپنے بیان میں طارق فضل چوہدری نے کہا کہ وفاقی حکومت کی اولین ترجیح عوام کا تحفظ اور خیبر پختونخوا میں امن کا قیام ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن ایک سینئر سیاستدان ہیں اور دہشت گردی کے نقصانات سے بھی واقف ہیں، اس لیے ان سے توقع ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف قومی کوششوں کا ساتھ دیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: حالات بہتر ہوئے تو خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی ختم بھی کی جا سکتی ہے، خواجہ آصف
وفاقی وزیر نے تحریک انصاف کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا میں تیرہ سال حکومت کرنے والی جماعت کو اپنی کارکردگی اور امن و امان کی بگڑتی صورتِ حال کا جواب دینا ہوگا۔طارق فضل چوہدری نے کہا کہ افواجِ پاکستان کے افسران اور جوان وطن میں امن کے قیام کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں۔ ایسے وقت میں سیاسی الزام تراشی کے بجائے قومی اتحاد اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمتِ عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام امن، تحفظ اور ترقی چاہتے ہیں، سیاسی تنازعات نہیں۔












