اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) وفاقی بجٹ میں جائیداد کے شعبے سے متعلق ایک اہم فیصلہ سامنے آیا ہے جس نے رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔ حکومت نے فائلرز کے لیے جائیداد کی خرید و فروخت پر ودہولڈنگ ٹیکس میں نمایاں کمی کا اعلان کر دیا ہے۔
قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کرتے ہوئے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت معیشت کو مزید دستاویزی بنانے اور ٹیکس نظام میں توازن پیدا کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے، تاکہ ٹیکس ادا کرنے والے شہریوں کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
بجٹ تجاویز کے مطابق فائلرز کے لیے جائیداد کی خریداری پر ودہولڈنگ ٹیکس 2.5 فیصد سے کم کرکے 1.25 فیصد کر دیا گیا ہے۔ اسی طرح جائیداد کی فروخت پر عائد ٹیکس بھی 5.5 فیصد سے کم کرکے 2.75 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ ماہرین اسے پراپرٹی سیکٹر کے لیے حوصلہ افزا قدم قرار دے رہے ہیں۔
وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ حکومت کی پالیسی یہ ہے کہ ٹیکس کا بوجھ منصفانہ انداز میں تقسیم کیا جائے اور ٹیکس نیٹ کو وسعت دی جائے، جبکہ مختلف شعبوں میں اصلاحات کے ذریعے کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دیا جائے۔
بجٹ میں گرانٹس کی مد میں 2680 ارب روپے مختص کرنے کا بھی اعلان کیا گیا ہے، جبکہ دیگر مالیاتی اقدامات کا مقصد معاشی استحکام کو یقینی بنانا بتایا گیا ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق جائیداد پر ٹیکس میں کمی سے رئیل اسٹیٹ مارکیٹ میں سرگرمیوں میں اضافہ، سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بہتری اور خرید و فروخت کے رجحان میں تیزی آ سکتی ہے۔
تاہم اب اصل سوال یہ ہے کہ آیا اس فیصلے کا فائدہ عام خریدار تک بھی پہنچے گا یا زیادہ تر فائدہ بڑے سرمایہ کار ہی حاصل کریں گے؟ اور کیا یہ اقدام پراپرٹی مارکیٹ میں حقیقی بہتری لائے گا یا محض ایک عارضی ریلیف ثابت ہوگا؟









