تہران ( پاک ترک نیوز) دنیا کی نظریں اس وقت آبنائے ہرمز پر جمی ہیں، جہاں ایک طرف امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی جاری ہے، دوسری طرف ایران نے ایک ایسا فیصلہ کیا ہے جس نے عالمی توانائی کی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ایران نے بھارت، چین، عراق اور قطر کے تجارتی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے دی ہے۔ یعنی اہم ترین سمندری راستے پر پابندیوں اور کشیدگی کے باوجود ان چار ممالک کے جہازوں کو خصوصی رعایت حاصل ہوگی۔
لیکن سوال یہ ہے کہ آخر ایران نے انہی چار ممالک کا انتخاب کیوں کیا؟ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے نائب چیئرمین امیر حیات مقدم کے مطابق بھارت کو یہ رعایت اس لیے دی گئی ہے کیونکہ ایران بھارت سے ادویات خریدتا ہے۔ جبکہ چین کو اجازت دینے کا مقصد دونوں ممالک کے سیاسی اور سفارتی تعلقات مضبوط بنانا اور بیجنگ کی حمایت حاصل کرنا ہے۔اس فیصلے کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ ایران بھارتی اور چینی جہازوں سے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی فیس وصول کر رہا ہے، جبکہ قطری جہازوں کو بغیر کسی ادائیگی کے گزرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ تاہم عراقی جہازوں سے فیس وصولی کے بارے میں وضاحت سامنے نہیں آئی۔
اب ذرا سمجھتے ہیں کہ بھارت کے لیے یہ راستہ اتنا اہم کیوں ہے؟بھارت اپنی خام تیل کی ضروریات کا تقریباً 90 فیصد درآمد کرتا ہے، جس کا تقریباً 30 فیصد آبنائے ہرمز کے راستے پہنچتا ہے۔ اس کے علاوہ بھارت کی تقریباً 90 فیصد ایل پی جی کی ترسیل بھی اسی راستے سے ہوتی ہے۔معاملہ صرف تیل تک محدود نہیں، قطر اور متحدہ عرب امارات سے آنے والی ایل این جی اور کھاد کی ترسیل بھی اسی سمندری گزرگاہ سے وابستہ ہے۔دوسری جانب یورپی یونین کے مطابق ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے جہازوں سے شناختی دستاویزات اور سامان کی تفصیلات طلب کرنا شروع کر دی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: عباس عراقچی کے 12 ممالک کے وزرائے خارجہ سے ٹیلیفونک رابطے
عالمی میری ٹائم آرگنائزیشن کے مطابق فروری سے اگست کے دوران تجارتی جہازوں پر تقریباً 70 حملے ہوئے، جن میں 19 بحری کارکن ہلاک ہوئے، ان میں 15 بھارتی شہری شامل تھے۔بھارت نے امریکا اور ایران دونوں پر زور دیا ہے کہ مذاکرات کے ذریعے کشیدگی ختم کی جائے اور آبنائے ہرمز میں آزادانہ بحری آمدورفت یقینی بنائی جائے۔











