امریکا نے دوبارہ جنگ کی طرف قدم بڑھایا تو وہ اندھیرے راستے میں داخل ہو جائے گا، ، محسن رضائی
تہران ( پاک ترک نیوز) امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ امن معاہدے کا انحصار ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے 24 ارب ڈالر کے منجمد ایرانی اثاثے جاری کرنے پر ہے۔
۔تفصیلات کےمطابق محسن رضائی کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ امن معاہدہ،منجمد اثاثوں کی واپسی کلیدی شرط قرار ہے
یہ دعویٰ ایران کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے کیا ہے۔ایران کے فوجی مشیر محسن رضائی نے سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر امریکا نے دوبارہ جنگ کی طرف قدم بڑھایا تو وہ اندھیرے راستے میں داخل ہو جائے گا۔
محسن رضائی کے مطابق ایران کے 12 ارب ڈالر فوری طور پر معاہدے کے ساتھ جاری کیے جائیں اور مزید 12 ارب ڈالر بعد کے مرحلے میں ادا کیے جائیں ،یہ رقم ایران کا حق ہے ،یہ اقدام امریکا اور ایران کے درمیان اعتماد سازی کا امتحان ہوگا۔
امریکی حکام کو خدشہ ہے کہ منجمد اثاثوں کی رہائی سے ایران پر دباؤ کا اہم ذریعہ ختم ہو جائے گا ،اور یہ 2015 کے جوہری معاہدے سے بھی زیادہ نرم سمجھا جا سکتا ہے ،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ کسی بھی معاہدے میں ایران کو پیسے کی براہ راست فراہمی نہ دی جائے۔
ایرانی مشیر نے خبردار کیا کہ اگر جنگ دوبارہ شروع ہوئی تو ایران خلیج فارس سے آگے بھی کارروائی کرے گا ،جنگ کا دائرہ آبنائے ہرمز، بحر ہند، باب المندب، بحیرہ احمر اور بحیرہ روم تک پھیل سکتا ہے ۔ ایران متعدد امریکی اڈوں کو نشانہ بنا سکتا ہے، تاہم جنگ کے امکانات کم ہیں ۔
محسن رضائی کے مطابق ایران اور عمان آبنائے ہرمز کی مشترکہ نگرانی کرتے ہیں ،یہ اہم سمندری راستہ عالمی تیل اور گیس کی بڑی مقدار کو گزارنے کا ذریعہ ہے ،۔ایران اس پر ٹول” نہیں بلکہ مینٹیننس فیس وصول کرنے کا حق رکھتا ہے ۔
محسن رضائی نے کہا آیت اللہ خامنہ ای اور ٹرمپ کے درمیان ملاقات کا کوئی امکان نہیں ہے ،مذاکرات اس وقت تعطل کا شکار ہیں ایران فوری حل چاہتا ہے جبکہ امریکا سخت مؤقف رکھتا ہے ۔
ماہرین کے مطابق مذاکرات کا مستقبل انتہائی غیر یقینی ہے ،منجمد اثاثوں کا مسئلہ دونوں ممالک کے درمیان سب سے بڑی رکاوٹ ہے ۔خطے میں کشیدگی دوبارہ بڑھنے کا خطرہ موجود ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کیخلاف جنگ میں امریکہ کے اخراجات کیا ہیں؟







