کیلیفورنیا ( پاک ترک نیوز)
صرف 30 ماہ باقی؟ الٹی میٹم! ایلون مسک کی چونکا دینے والی پیشگوئیکیا واقعی دنیا کے پاس صرف 30 ماہ باقی رہ گئے ہیں؟ کیا زمین ایک ایسے توانائی بحران کی طرف بڑھ رہی ہے جو ٹیکنالوجی اور معیشت دونوں کو ہلا کر رکھ دے گا؟ اور کیا مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی ہماری بجلی کی موجودہ صلاحیت کو ناکافی بنا چکی ہے؟ دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک کے حالیہ بیان نے انہی سوالات کو عالمی بحث کا موضوع بنا دیا ہے۔ایک پوڈکاسٹ انٹرویو میں ایلون مسک نے خبردار کیا کہ اگلے 30 سے 36 ماہ کے اندر زمین کو توانائی کے شدید دباؤ کا سامنا ہوگا۔
ان کے مطابق مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا سینٹرز اور سپر کمپیوٹنگ انفراسٹرکچر بجلی کی طلب میں غیر معمولی اضافہ کر رہے ہیں، جبکہ زمین کی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت محدود ہے۔ انہوں نے کہا کہ “میری باتیں یاد رکھنا، آپ یہاں اس سے بڑے نہیں ہو سکتے” — یعنی زمین کی موجودہ توانائی حدود ہمیں روک دیں گی۔ایلون مسک کا کہنا ہے کہ اگر یہی رفتار برقرار رہی تو صرف ڈھائی سال میں مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے کے لیے جگہ اور توانائی سب سے قیمتی اثاثہ بن جائیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ایک غیر معمولی منصوبہ پیش کیا: کمپیوٹنگ پاور کو خلا میں منتقل کرنا۔
ان کے مطابق لوئر ارتھ مدار میں تقریباً 10 لاکھ چھوٹے سیٹلائٹس بھیجے جا سکتے ہیں، جو براہِ راست شمسی توانائی سے چلنے والے سی پی یوز سے لیس ہوں گے۔ مسک کا استدلال ہے کہ خلا میں سورج کی روشنی مسلسل دستیاب ہوتی ہے، جس سے لامحدود توانائی حاصل کی جا سکتی ہے، اور یوں زمین کی توانائی حدود سے آزاد ہو کر سپر کمپیوٹنگ سسٹمز چلائے جا سکتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے: کیا یہ وژن حقیقت بن سکتا ہے یا محض ایک اور جرات مندانہ دعویٰ ہے؟ کیا واقعی دنیا توانائی کے بحران کے دہانے پر کھڑی ہے؟ آنے والے 30 ماہ فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔












