Friday , 24 July , 2026
  • Login
پاک ترک نیوز
  • Homepage
  • Latest
  • Pakistan
  • Turkey
  • World
  • game
  • Economy
  • Columns/Blogs
  • Technology
  • Education and health
No Result
View All Result
  • Homepage
  • Latest
  • Pakistan
  • Turkey
  • World
  • game
  • Economy
  • Columns/Blogs
  • Technology
  • Education and health
No Result
View All Result
پاک ترک نیوز
No Result
View All Result
Home Most important

خیبرپختونخوا میں دہشت گردوں کو ساز گار سیاسی ماحول فراہم کیا جاتا ہے: پاک فوج

7 months ago
A A
خیبرپختونخوا میں دہشت گردوں کو ساز گار سیاسی ماحول فراہم کیا جاتا ہے: پاک فوج
Share on FacebookWhatsApp

راولپنڈی(پاک ترک نیوز ) پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا ہے کہ بھارتی سرپرستی میں افغانستان دہشت گردوں کی آماج گاہ بن گیا، دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری قوم کی جنگ ہے، یہ جنگ ہم کو جیتنا ہوگی، یہ جنگ طاقت سے جیتی جائے گی، دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے پرعزم ہیں۔
ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ آج کی پریس کانفرنس کا مقصد گزشتہ سال میں دہشتگردی کے خلاف اقدامات کا جامع احاطہ کرنا ہے، یہ صرف فوج کی جنگ نہیں، یہ قوم کے بچے بچے کی جنگ ہے، دہشت گردوں کے خلاف کھڑے نہ ہوئے تو یہ گھروں، بازاروں، گلیوں، دفتروں میں آکر پھٹیں گے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ دہشت گردی کی جنگ دو دہائی سے زیادہ عرصے سے لڑی جارہی ہے، دہشت گردی کے خلاف ریاست پاکستان اورعوام کے درمیان ایک مکمل کلیرٹی حاصل ہوئی، دہشتگردوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، افغانستان خطے میں دہشتگردی کا بیس آف آپریشن بنا ہوا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے سب سے زیادہ واقعات خیبرپختونخوا میں ہوئے ہیں کیونکہ خیبرپختونخوا میں ہی دہشت گردی کے لیے ساز گار سیاسی ماحول فراہم کیا جاتا ہے، گزشتہ سال ملک بھر میں مجموعی طور پر 27 خودکش حملے ہوئے، جن میں سے 16 خیبرپختونخوا میں رپورٹ ہوئے، ان خودکش حملوں میں دو حملے خواتین کی جانب سے کیے گئے۔
انہوں نے واضح کیا کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے لیے موافق سیاسی فضا موجود ہے، خیبرپختونخوا میں کرمنل ٹیرر گٹھ جوڑ موجود ہے جس کی وجہ سے 2021 سے 2025 تک خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے زیادہ واقعات ہوئے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ دہشت گردوں، فتنہ الہندوستان کا بلوچستان اوربلوچیت سے کوئی تعلق نہیں، فوج، پولیس،ایف سی اورانٹیلی جنس ایجنسیوں نے 75 ہزار 175 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کئے، 14ہزار 658 آپریشن خیبرپختونخوا میں کیے گئے، 58 ہزار 778 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن بلوچستان میں کیے گئے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا کہ گزشتہ سال 2597دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا گیا، دہشت گردی کی جنگ میں ہماری 1235شہادتیں ہوئیں، پچھلے سال 27خودکش واقعات ہوئے، خیبرپختونخوا میں 16،بلوچستان 10اورایک اسلام آباد جوڈیشل کمپلیکس میں ہوا، 3ہزار811 دہشت گردی کے واقعات خیبرپختونخوا میں ہوئے، 2021سب سے اہم سوال کہ 80 فیصد دہشت گردی کے واقعات خیبر پختونخوا میں ہو رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ریاست انسداد دہشتگردی کے لیے پرعزم ہے، انسداد دہشتگردی کے لیے اہم اقدامات کیے ہیں، ریاست کا دہشتگردی کے خلاف واضح مؤقف ہے، دنیا نے پاکستان کے دہشتگردی کے خلاف اقدامات کو سراہا ہے، پانچ سال پہلے صورت حال یہ تھی کہ ایک دہشت گرد کے مارے جانے پر تین شہادتیں ہوتی تھیں، جبکہ اب یہ تناسب بدل چکا ہے اور ایک شہادت کے مقابلے میں دو دہشت گرد مارے جا رہے ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے افغانستان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملک دہشت گردوں کی آماجگاہ بن چکا ہے اور دنیا بھر کی مختلف دہشت گرد تنظیمیں وہاں سے آپریٹ کر رہی ہیں، القاعدہ، داعش، بی ایل اے اور ٹی ٹی پی جیسے گروہوں کے ٹھکانے افغانستان میں موجود ہیں، جس کا اثر نہ صرف پاکستان بلکہ افغانستان کے دیگر پڑوسی ممالک پر بھی پڑ رہا ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے بتایا کہ حالیہ معلومات کے مطابق شام سے تقریباً اڑھائی ہزار دہشت گرد افغانستان پہنچ چکے ہیں، ان میں ایک بھی پاکستانی نہیں، یہ خطے کی سلامتی کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ ہے، افغانستان کے ہمسایہ ممالک اس صورتحال کے باعث دہشت گردی سے متاثر ہو رہے ہیں، جس پر عالمی برادری کو توجہ دینی چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا افغانستان سے انخلا کے وقت بڑی مقدار میں جدید اسلحہ چھوڑ کر گیا، جو اب دہشت گردی کی کارروائیوں میں استعمال ہو رہا ہے، یہ اسلحہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے خطرات میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت خطے میں دہشت گردوں کو بطور پراکسی استعمال کر رہا ہے اور ان گروہوں کو اسلحہ اور مالی وسائل فراہم کیے جا رہے ہیں، سکیورٹی اداروں کے پاس اس حوالے سے شواہد موجود ہیں اور یہ معاملہ علاقائی امن کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ بن چکا ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کے مطابق کہا جاتا ہے کہ افغان طالبان سے مذاکرات کیے جائیں، لیکن زمینی حقائق کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، دہشت گردوں نے خیبرپختونخوا میں مسجد پر حملہ کیا، فیلڈ مارشل نے خود پشاور کا دورہ کر کے اس مسجد کے ملبے پر کھڑے ہوکر دہشتگردی کے خلاف واضح مؤقف دیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ کسی بھی ملک میں پانچ فیصد کے برابر بھی دہشت گردی ہو تو وہ ریاست قائم نہیں رہ سکتی، افغانستان خود کو اسلام کا علمبردار بناکر پیش کرتا ہے جبکہ وار اکانومی کرتا ہے، وار اکانومی کو چلانے کیلئے وہ جنگ کو دہشتگردی کی شکل میں پورے ریجن میں پھیلایا جاتا ہے، ان کو وار اکانومی کی عادت پڑی ہوئی ہے، یہ واراکانومی کیلئے نئے سپانسر ڈھونڈتے ہیں، ہندوستان کے پیسے اورسرپرستی سے افغانستان سے دہشتگردی ہورہی ہے۔
ترجمان پاک فوج نے کہا کہ بھارت نے آپریشن سندور کے دوران خواتین اور بچوں کو بھی نشانہ بنایا، جبکہ پاکستان کی کارروائیاں دہشت گردوں کے خلاف اور مخصوص اہداف تک محدود رہیں، پاکستان نے افغانستان میں افغان طالبان کو نہیں بلکہ تحریک طالبان پاکستان کے دہشت گرد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔
اس موقع پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے دہشتگردوں کے بیانات اور گفتگو بھی چلائی اور کہا کہ گرفتار دہشت گردوں نے افغانستان کے ملوث ہونے کا اعتراف کیا، افغان باشندوں کو افغانستان میں دہشت گردی کی تربیت دی جاتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پچھلے سال دہشتگردی کے 10بڑے واقعات ہوئے، بنوں کینٹ،جعفرایکسپریس،نوشکی میں سول بس اور خضدار میں سکول بس کو نشانہ بنایا گیا، فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈکوارٹرز، ایف سی ہیڈکوارٹرز کوئٹہ، پولیس ٹریننگ سکول ڈی آئی خان، کیڈٹ کالج وانا اور اسلام آباد جوڈیشل کمپلیکس کو نشانہ بنایا گیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ پشاور میں دوبارہ فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈکوارٹرز کو نشانہ بنایا گیا، تمام بڑے 10دہشتگردی کے واقعات میں افغانی ملوث پائے گئے، حملہ کرنے والا ہر افغانی مارا جاتا ہے، بارڈر بند کرنے سے دہشت گردی کے واقعات کم ہوئے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ دنیا نے دیکھا کہ معرکہ حق میں ہندوستان کا منہ کالا کیا گیا، بھارت نے معرکہ حق کے بعد دہشتگردی کو خوب ہوا دی، اکتوبر 2025 میں دہشت گردوں پر پاک افغان بارڈر پر حملے کیے گئے، گھنٹوں میں درجنوں افغان پوسٹوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے نام نہاد سندور آپریشن میں بچوں اور خواتین کو نشانہ بنایا ، ہندوستان کون ہوتا ہے کہ ہمارے کسی شہری کو نشانہ بنائے ، یہ حق ہندوستان کوکسی نےنہیں دیا کہ وہ پاکستان کے کسی شہری یا انفراسٹرکچرکو نقصان پہنچائے، ہندوستان کے آپریشن سندور کی کالک ابھی تک اس کے منہ سے نہیں جا رہی۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ بیانیہ بنایا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے یہ فوج کی جنگ ہے، یہ پوری قوم کی جنگ ہے، ایک ایک بچے کی جنگ ہے، اگر دہشت گردی کے ناسور کو ختم نہ کیا گیا تو کل آپ کے سکولوں، بازاروں، دفاتر اور گلیوں میں دہشتگرد حملے ہو رہے ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ ایک بیانیہ بنایاجاتا ہے کہ پاکستان فوج ڈرون استعمال کرتی ہے، ان کا سرپرست اعلیٰ ہندوستان ان کو ہر چیز فراہم کرتا ہے، خارجیوں نے مسلح آرمڈ کواڈ کاپٹرز استعمال کرنا شروع کیا، یہ مساجد، عوامی جگہوں اور گھروں کو استعمال کرتے ہیں، خارجیوں کا ایک خاص ونگ آرمڈ کواڈ کاپٹرز استعمال کرتا ہے، سرویلنس کے لیے ڈرونز کا استعمال ہوتا ہے ۔
پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا کہ خوارج مساجد میں بیٹھ کر کواڈ کاپٹرز دہشتگردی کے لیے استعمال کرتے ہیں، خوارج بچوں اور خواتین کو ڈھال بنا کر دہشتگردی کرتے ہیں، پاک فوج صرف دہشت گردوں اور سہولت کاروں کو نشانہ بناتی ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ ریاست دہشت گردی کےخاتمےکےلیےپرعزم ہے، دہشت گردوں کےخلاف ہرطریقےسےلڑیں گے،ہم نےجنازے اٹھائےہیں ہم ان کوجہنم واصل کریں گے، دہشت گردوں کےسہولت کاروں کوآخری کونےتک جائیں گے، فتنہ الخوراج کےمراکزافغانستان میں ہے،ریاست اپنےایک ایک بچے،شہری کا تحفظ کررہی ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا کہ یہ پاکستان کی سالمیت کی جنگ ہے، کسی کی ذات پاکستان سےبڑی نہیں ہے، جو کہتے ہیں آپریشن نہیں ہونےدیں گے کیا ان کی شخصیت ملک سےبڑھ کر ہیں؟وانا میں معصوم بچوں پرحملہ ہوا،پولیس،ایف سی،سویلین کیا صوبےمیں شہید نہیں ہورہے؟کہتےہیں کابل سےسکیورٹی کی بھیک مانگیں گے۔
ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ کسی کی سیاست پاکستان سےبڑھ کرنہیں،حکومتیں بااختیارہوتی ہے، ادارے بااختیارنہیں جس طرح ہونےچاہئیں،جوابھی بھی کہتےہیں بات چیت سےمسئلےحل کریں ان سےپوچھیں طالبان سےکیا محبت ہے، ہمارا کام دودھ کا دودھ اورپانی کا پانی قوم کےسامنےلانا ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل نےکہا ان سےکوئی بات چیت نہیں کرنی، ہماری طرف سےکلیریٹی ہے،یہ خوراج ہےان سےلڑنا ہے،ان کوکوئی اسپیس نہیں دینی، دہشتگردوں کا کوئی ایمان نہیں ، ہم حق پر ہیں اور حق نے غالب آنا ہے، ہمیں کسی دہشتگرد سے کوئی ہمدردی نہیں ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ پاکستان نےافغان طالبان سے2021سےبارہا مذاکرات کیے،کابل میں افغان طالبان کا ہی رول ہے،دوطرفہ بات چیت سےکوئی فائدہ نہیں ہوا، ہمارے نزدیک دہشت گرد کا کوئی رنگ یا شیڈ نہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ ماضی میں وزیراعظم نےاس وقت کےآرمی چیف کوباپ ڈکلیئرکیا، یہ بیانیہ مضحکہ خیزہےکہ ہم بےاختیارتھے،ایک لیڈراپنی جماعت کوایک آمرکی طرح چلاتا رہا،جوشخص کہتا ہےمیں بےاختیارتھا اس نےآرمی چیف کوقوم کا باپ ڈکلیئرکیا تھا، ہم توسمجھتےہیں قوم کاایک ہی باپ قائداعظم محمدعلی جناح ہے۔
ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی کوسیاست کیلئےاستعمال کیا گیا، ہمارے لیےتمام سیاسی جماعتیں،صوبےبرابرہیں، آئین اورقانون ملک کےعوام کوتحفظ فراہم کرتا ہے، بارڈر بندش کے فوائد نظر آنا شروع ہو گئے ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ یہ توکہتےہیں آپریشن نہیں ہونےدیں گے،سیکورٹی ہیبت اللہ سےلیں گے،کوئی مذاق ہےخیبرپختونخوا کودہشت گردوں کےحوالےکردیں، ہمیں دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑنے پر فخر ہے، اگر ملک میں سکیورٹی ہو گی تو کاروبار ہوگا ، جان ہے تو جہان ہے۔

Tags: dgisprrawalpindi
ShareSend

Related Posts

Father and son drowned in Rawalpindi's Nullah Leh.
Latest

راولپنڈی کے نالہ لئی میں باپ بیٹا ڈوب گئے

18 July , 2026
بلوچستان ،دہشت گرد حملوں میں 42جوان شہید،54دہشت گرد مارے گئے،ڈی جی آئی ایس پی آر
Most important

Balochistan, 42 soldiers martyred in terrorist attacks, 54 terrorists killed, DG ISPR

July 8, 2026
Bushra Bibi's interim bail extended until July 11
The 3 most important

بشریٰ بی بی کی عبوری ضمانت میں 11جولائی تک توسیع

23 June , 2026
علیمہ خان کیخلاف احتجاج کیس آخری مراحل میں داخل
Pakistan

علیمہ خان کیخلاف احتجاج کیس آخری مراحل میں داخل

10 June , 2026
War against terrorism will continue, says Field Marshal
Most important

دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رہے گی ،فیلڈ مارشل

21 May , 2026
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا بانی کی بہنوں کے ہمراہ دھرنا
Pakistan

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا بانی کی بہنوں کے ہمراہ دھرنا

12 May , 2026
Next Post
گرین لینڈ پر امریکی فوجی قبضہ؟ ٹرمپ نے جنگ کا آپشن کھلا چھوڑ دیا

گرین لینڈ پر امریکی فوجی قبضہ؟ ٹرمپ نے جنگ کا آپشن کھلا چھوڑ دیا

Read this too

ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں 59لاکھ ڈالر کی کمی

ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں 59لاکھ ڈالر کی کمی

23 July , 2026
آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا،وزیراعظم

آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا،وزیراعظم

23 July , 2026
امریکا جہازوں پر حوثیوں کے حملوں کا ذمہ دار ایران کو ٹھہرائے گا، ٹرمپ

امریکا جہازوں پر حوثیوں کے حملوں کا ذمہ دار ایران کو ٹھہرائے گا، ٹرمپ

23 July , 2026
پہلا ون ڈے ،پاکستان ویمن ٹیم نے سری لنکا کو شکست دیدی

پہلا ون ڈے ،پاکستان ویمن ٹیم نے سری لنکا کو شکست دیدی

23 July , 2026
بلوچستان پاکستان کا فخر ،امن لائیں گے ، فیلڈ مارشل

بلوچستان پاکستان کا فخر ،امن لائیں گے ، فیلڈ مارشل

23 July , 2026

About Us

"Pak Turk News is an unbiased Urdu news website committed to delivering timely and authentic reports, analyses, and feature articles on important news from Pakistan, Turkey, and around the world to its Urdu-speaking readers. We offer a new perspective on Pak-Turk relations, global politics, economy, culture, and social issues, enabling readers to stay informed, conscious, and influential.

  • Homepage
  • Pakistan
  • Latest
  • Turkish
  • World
  • About Us
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Declaration of non-attachment
  • Contact

Follow us on social media

Facebook Twitter Instagram Youtube

Copyright 2026 © All publishing rights reserved by Pak Turk News. Reproduction without permission is prohibited.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Homepage
  • Latest
  • Pakistan
  • Turkey
  • World
  • game
  • Economy
  • Columns/Blogs
  • Technology
  • Education and health

Copyright 2026 © All publishing rights reserved by Pak Turk News. Reproduction without permission is prohibited.

English
Urdu