راولپنڈی (پاک ترک نیوز )ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں دہشت گرد حملوں میں 42 جوان شہید ہوئے ہیں، جوابی کارروائیوں میں 54 دہشت گرد مارے گئے۔
بلوچستان میں سیکیورٹی صورتحال پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ گزشتہ چار دنوں میں بلوچستان میں دہشت گردی کے تین بڑے واقعات ہوئے ہیں، ہنہ اوڑک کے واقعے میں چار افراد جاں بحق ہوئے اور 6 زخمی ہیں، مانگی ڈیم واقعے میں 9 پولیس اہل کار شہید ہوئے، 15 خوارجی ہلاک ہوئے۔
ترجمان پاک فوج نے کہا کہ مانگی ڈیم واقعے میں شہید پولیس اہل کاروں کی تعداد 27 ہو گئی ہے، بیلہ کے قریب دہشت گرد واقعے میں 11 فوجی اہل کار شہید ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: We will not let anyone harm Balochistan's peace, Prime Minister
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ 6 جولائی سے زیارت کے پہاڑوں میں آپریشن جاری تھا، دہشت گردوں نے آج 18 پولیس اہل کاروں کو شہید کیا، آپریشن میں 11 دہشت گرد مارے گئے۔
ترجمان پاک فوج نے کہا کہ یہ دہشت گرد حملے ہندوستان کروا رہا ہے، افغان طالبان رجیم کے ساتھ مل کر پاکستان میں دہشت گرد کارروائیاں کی جا رہی ہیں، ان دہشت گرد واقعات کے پیچھے ایک ماسٹر مائنڈ ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کی خوشحالی اورترقی کے دشمن دہشتگردی کے ان واقعات میں ملوث ہیں، افغان طالبان رجیم کے ساتھ مل کر پاکستان میں دہشت گرد کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق ان دہشتگرد واقعات کے پیچھے ایک ماسٹر مائنڈ ہے، پاکستان کے دشمنوں کو پاکستان کی ترقی اور عزت سے مسئلہ ہے، پاکستان کے دشمن نہیں چاہتے ہے کہ بلوچستان میں ترقی ہو۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا ہم یہاں ہیں اور یہاں رہیں گے، ہم ہر دہشت گرد اور ان کے سہولت کاروں کو ان کے انجام تک پہنچائیں گے، تم ہمارے بچوں اور معصوم شہریوں کو مارو اور ہم تم سے بات کریں، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابی ہو گی۔












