انقرہ ( پاک ترک نیوز) ترکیہ کی وزارتِ قومی دفاع نے کہا ہے کہ ایس-400 طویل فاصلے کے فضائی اور میزائل دفاعی نظام پر مختلف سطحوں پر کام جاری ہے، جبکہ اس حوالے سے کوئی بھی اہم پیش رفت ہونے پر عوام کو آگاہ کیا جائے گا۔
وزارت دفاع کے ترجمان زکی آکتُرک نے انقرہ میں ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ ایس-400 دفاعی نظام سے متعلق منصوبے پر متعدد پہلوؤں سے پیش رفت جاری ہے، تاہم فی الحال مزید تفصیلات یا ٹائم لائن فراہم نہیں کی جا سکتی۔ جب بھی اس منصوبے میں کوئی ٹھوس پیش رفت ہوگی تو اسے عوام کے ساتھ شیئر کیا جائے گا۔
ترجمان نے کہا کہ ترک مسلح افواج دوست اور اتحادی ممالک کے ساتھ تعاون، تربیتی اور مشاورتی سرگرمیوں اور کثیرالملکی مشنز میں شرکت کے ذریعے علاقائی اور عالمی امن، سلامتی اور استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔
زکی آکتُرک نے لبنان اور فلسطین میں شہریوں پر اسرائیلی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات خطے میں دیرپا امن کے قیام میں رکاوٹ بن رہے ہیں اور مذاکراتی عمل کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ اگر فریقین تعمیری انداز میں مذاکرات مکمل کریں تو اس سے نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا میں امن، خوشحالی اور استحکام کو فروغ ملے گا۔
ترجمان نے بتایا کہ ترکیہ شام کے ساتھ دفاعی تعاون بڑھانے اور شامی مسلح افواج کی تنظیمِ نو میں معاونت جاری رکھے ہوئے ہے۔
اسی سلسلے میں 13 جولائی کو ترک بحریہ کے کمانڈر ایڈمرل قادر یلدز نے جنگی بحری جہازوں کے ہمراہ شام کے شہر لاذقیہ کا دورہ کیا، جہاں شامی بحریہ کے حکام سے ملاقاتیں کی گئیں اور فوجی بندرگاہ کا معائنہ بھی کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: خلائی اسٹیشن سے ہمالیہ کے بہتے گلیشیئرز کی حیرت انگیز تصویر
وزارت دفاع کے مطابق 18 برس بعد پہلی بار ترک بحری جہاز لاذقیہ بندرگاہ پہنچے، جبکہ دونوں ممالک نے بحری تعاون اور شامی بحریہ کی استعداد بڑھانے پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
ترجمان نے کہا کہ ترکیہ اور مصر کے درمیان اعلیٰ سطح کے حالیہ دوروں کے بعد دفاعی تعاون میں نمایاں تیزی آئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جون میں دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی مشترکہ فضائی مشقوں سے باہمی آپریشنل صلاحیت، ہم آہنگی اور عسکری تجربات کے تبادلے میں اضافہ ہوا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ترک وزیر دفاع یشار گولر اور ان کے مصری ہم منصب نے دفاعی تعاون سے متعلق ایک لیٹر آف انٹینٹ پر بھی دستخط کیے، جسے دونوں ممالک کے درمیان دفاعی اور سیکیورٹی تعاون مزید مضبوط بنانے کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔






