لاہور( پاک ترک نیوز) شادی ایک ایسا رشتہ جسے کبھی زندگی کی سب سے خوبصورت منزل سمجھا جاتا تھا۔ مگر اب حالات بدل رہے ہیں۔ لاکھوں نوجوان شادی کی عمر گزرنے کے باوجود اس فیصلے سے گریزاں ہیں۔ آخر ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ کیا محبت ختم ہو گئی ہے؟ کیا مہنگائی نے خواب چھین لیے ہیں؟ یا سوشل میڈیا نے رشتوں کو مشکل بنا دیا ہے؟ آئیے دیکھتے ہیں ہماری خصوصی رپورٹ۔
چند دہائیاں پہلے بیس سے پچیس سال کی عمر میں شادی معمول سمجھی جاتی تھی، لیکن اب بہت سے نوجوان تیس یا اس سے بھی زیادہ عمر میں شادی کا فیصلہ کر رہے ہیں، جبکہ کچھ لوگ سرے سے شادی ہی نہیں کرنا چاہتے۔آخر اس تبدیلی کے پیچھے کون سے عوامل کارفرما ہیں؟
بہت سے نوجوانوں کا کہنا ہے کہ محدود آمدنی میں ایک نئی زندگی شروع کرنا آسان نہیں رہا۔ وہ پہلے مالی طور پر مستحکم ہونا چاہتے ہیں، پھر شادی کے بارے میں سوچتے ہیں۔آج کا نوجوان پہلے تعلیم مکمل کرنا، اچھی ملازمت حاصل کرنا اور مستقبل محفوظ بنانا چاہتا ہے۔اس دوڑ میں اکثر شادی کئی سال پیچھے چلی جاتی ہے۔
انسٹاگرام، فیس بک اور دیگر پلیٹ فارمز پر دکھائی جانے والی پرفیکٹ زندگی نے توقعات بھی بڑھا دی ہیں۔ کئی نوجوان اپنے مستقبل کے شریکِ حیات سے غیر حقیقی توقعات وابستہ کر لیتے ہیں، جس کے باعث مناسب رشتہ بھی نظر انداز ہو جاتا ہے۔
خاندانی تنازعات اور طلاق کے بڑھتے ہوئے واقعات دیکھ کر بعض نوجوان خوف محسوس کرتے ہیں کہ کہیں ان کی ازدواجی زندگی بھی مشکلات کا شکار نہ ہو جائے۔ بعض نوجوان سمجھتے ہیں کہ شادی کے بعد ذمہ داریاں بڑھ جائیں گی اور ذاتی آزادی محدود ہو جائے گی۔اسی سوچ کے باعث وہ اس فیصلے کو مسلسل مؤخر کرتے رہتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں اپنی چھت، محفوظ چھت پراجیکٹ پورٹل لانچ
ماہرینِ نفسیات کے مطابق شادی سے خوفزدہ ہونا ہمیشہ کمزوری نہیں ہوتا، بلکہ بعض اوقات یہ مستقبل کی ذمہ داریوں کے بارے میں فطری تشویش بھی ہو سکتی ہے۔البتہ غیر حقیقی توقعات، مسلسل موازنہ اور فیصلہ کرنے میں حد سے زیادہ تاخیر انسان کو تنہائی اور ذہنی دباؤ کی طرف بھی لے جا سکتی ہے۔ کامیاب شادی کا راز دولت یا ظاہری آسائشوں سے زیادہ باہمی اعتماد، احترام، برداشت اور مؤثر گفتگو میں پوشیدہ ہے۔
شادی سے خوفزدہ ہونا یا اسے مؤخر کرنا ہر نوجوان کی اپنی ذاتی صورتحال، ترجیحات اور حالات پر منحصر ہوتا ہے۔
سوال یہ نہیں کہ شادی جلد کرنی چاہیے یا دیر سے…اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس اہم فیصلے کے لیے ذہنی، جذباتی اور معاشی طور پر تیار ہیں؟کیونکہ مضبوط رشتے صرف محبت سے نہیں، بلکہ اعتماد، ذمہ داری اور باہمی احترام سے قائم رہتے ہیں












