اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) ناظرین، پاکستان ایک بار پھر شدید ہیٹ ویو کی لپیٹ میں ہے، جہاں کئی علاقوں میں درجہ حرارت خطرناک حد تک بڑھنے کے باعث معمولاتِ زندگی متاثر ہو رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق صرف زیادہ درجہ حرارت ہی نہیں، بلکہ گرمی کے ساتھ بڑھتی ہوئی نمی بھی انسانی صحت کے لیے بڑا خطرہ بن رہی ہے۔ ایسی صورتحال میں جسم پسینے کے ذریعے خود کو مؤثر انداز میں ٹھنڈا نہیں کر پاتا، جس سے ہیٹ ایگزاسشن اور ہیٹ اسٹروک جیسے جان لیوا مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
رواں برس پاکستان اور بھارت کے مختلف علاقوں میں درجہ حرارت کئی مقامات پر 46 ڈگری سینٹی گریڈ یا اس سے بھی زیادہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ بعض علاقوں میں موسم معمول سے کئی ڈگری زیادہ گرم رہا۔ اس صورتحال نے بجلی کی طلب، پانی کی ضرورت اور زرعی شعبے پر دباؤ میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔
ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث شدید ہیٹ ویوز پہلے کے مقابلے میں زیادہ بار اور زیادہ شدت کے ساتھ سامنے آ رہی ہیں۔ اگر عالمی درجہ حرارت میں اضافہ اسی رفتار سے جاری رہا تو مستقبل میں جنوبی ایشیا کو ایسی شدید گرمی کی لہروں کا زیادہ بار سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آئی ایم ایف اور پاکستان کے مذاکرات ستمبر میں متوقع
اس صورتحال میں سب سے زیادہ خطرہ بزرگ افراد، بچوں، حاملہ خواتین، کھلے آسمان تلے کام کرنے والے مزدوروں، کسانوں اور دائمی بیماریوں میں مبتلا افراد کو لاحق ہوتا ہے۔
ماہرین شہریوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ شدید دھوپ میں غیر ضروری باہر نکلنے سے گریز کریں، پانی کا زیادہ استعمال کریں، ہلکے رنگ کے ڈھیلے کپڑے پہنیں اور ہیٹ اسٹروک کی علامات ظاہر ہونے پر فوری طبی امداد حاصل کریں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بروقت احتیاطی تدابیر اختیار نہ کی گئیں تو شدید گرمی مستقبل میں صحتِ عامہ، معیشت اور روزمرہ زندگی کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔












