امریکا اور ایران کے درمیان جنگ ختم ہونے کے قریب پہنچ گئی ہے۔ معاہدہ تقریباً تیار بتایا جا رہا ہے، لیکن اسی دوران ایک ایسا انکشاف ہوا ہے جس نے سی آئی اے اور موساد کو بے نقاب کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری معاہدہ بار بار تعطل کا شکار ہو رہا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق جب واشنگٹن کوئی تجویز بھیجتا ہے تو اسے مجتبیٰ خامنہ ای تک پہنچنے میں کافی وقت لگتا ہے، کیونکہ پیغامات کسی شخص کے ذریعے پہنچائے جاتے ہیں، نہ کہ کسی الیکٹرانک ذریعے سے۔ پھر جواب آنے میں بھی تاخیر ہوتی ہے کیونکہ ایران کی پوری کمانڈ اینڈ
چین انتہائی بند اور خفیہ انداز میں کام کر رہی ہے۔
سی بی ایس نیوز کی رپورٹ کے مطابق آپریشن ایپک فیوری کے دوران امریکی اور اسرائیلی حملوں میں مجتبٰی خامنہ ای زخمی ہو گئے تھے۔ اس کے بعد انہوں نے اپنی سیکیورٹی انتہائی سخت کر دی۔ جنگ شروع ہونے کے بعد سے مجتبٰی خامنہ ای نہ تو عوامی سطح پر نظر آئے ہیں اور نہ ہی ان کی کوئی راست آواز سامنے آئی ہے۔
امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو ایرانی حکومت کے اندر سے کافی خفیہ معلومات حاصل ہوئیں، جن کی مدد سے جنگ کے دوران ایران کے کئی بڑے رہنماؤں کو نشانہ بنایا گیا لیکن سب سے اوپر موجود مجتبٰی خامنہ ای تک پہنچنا اب بھی مشکل ثابت ہو رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایران کے بیشتر بڑے رہنما بنکروں میں رہ رہے ہیں۔ وہ کھلی جگہوں پر نہیں نکلتے اور صرف ضرورت پڑنے پر ہی ایک دوسرے سے رابطہ کرتے ہیں۔ تاہم سب سے زیادہ احتیاط خود سپریم لیڈر کے لیے برتی جا رہی ہے۔ ایرانی حکومت کے اعلیٰ ترین عہدیدار بھی نہیں جانتے کہ مجتبٰی خامنہ ای کہاں موجود ہیں۔ ان کے پاس ان سے براہِ راست رابطے کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔












