پیانگ یانگ(پاک ترک نیو ز)شمالی کوریا نے روسی فوج کی اگلی صفوں میں تعینات یونٹس کے لیے دوبارہ ٹیکٹیکل بیلسٹک میزائل بھیجنا شروع کر دیے ہیں، جس سے دونوں ممالک کے درمیان فوجی تعاون کے مزید مضبوط ہونے کی نشاندہی ہوتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق شمالی کوریا روس کو KN-23 اور کم فاصلے تک مار کرنے والے KN-24 بیلسٹک میزائل فراہم کر رہا ہے۔ ان میزائلوں کی پہلی کھیپ 2023 کے آخر میں روس پہنچی تھی، جب یوکرین جنگ کے باعث روس کے اپنے درست نشانے والے بیلسٹک میزائلوں کے ذخائر دباؤ کا شکار ہو گئے تھے۔ نئی ترسیل سے ظاہر ہوتا ہے کہ شمالی کوریا روس کے لیے جدید گائیڈڈ ہتھیاروں کا ایک اہم سپلائر بن چکا ہے۔
جون کے آغاز میں شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا نے KN-23 میزائل تیار کرنے والی ایک بڑی فیکٹری کی ویڈیو بھی نشر کی تھی۔ ملکی قیادت نے آئندہ پانچ برسوں میں بیلسٹک اور کروز میزائلوں کی پیداواری صلاحیت میں ڈھائی گنا اضافہ کرنے کا منصوبہ بھی منظور کیا ہے۔ اس فیصلے کی ایک بڑی وجہ روس سمیت بیرونی ممالک کی جانب سے شمالی کوریائی میزائلوں کی بڑھتی ہوئی طلب بتائی جا رہی ہے۔
شمالی کوریا پہلے ہی دنیا کے بڑے میزائل تیار کرنے والے ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ اگست 2024 میں شمالی کوریا نے بین الکوریائی غیر فوجی علاقے (DMZ) کے قریب تعینات یونٹس کو ایک ہی تقریب میں ایک ہزار KN-24 میزائل اور لانچرز فراہم کیے تھے۔
KN-23 میزائل پہلی بار جنوری 2024 میں روس۔یوکرین جنگ میں استعمال ہوتے دیکھے گئے تھے، جہاں انہیں روس کے اسکندر-ایم (Iskander-M) بیلسٹک میزائلوں کے ساتھ استعمال کیا گیا۔ دونوں نظاموں میں کئی تکنیکی مماثلتیں پائی جاتی ہیں، جس کے باعث ماہرین کا خیال ہے کہ شمالی کوریا کو اس پروگرام میں روسی تکنیکی معاونت حاصل رہی ہو سکتی ہے۔
جون 2026 میں یوکرینی ذرائع نے دعویٰ کیا کہ KN-23 کی درستگی میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اس کی سرکلر ایرر پروبیبل (CEP) محض 1 سے 5 میٹر تک رہ گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ بہتری جنگی تجربات، تکنیکی ترقی اور روس کو برآمدات سے حاصل ہونے والی مالی معاونت کا نتیجہ ہو سکتی ہے۔












