واشنگٹن / تہران: (پاک ترک نیوز)اگر یہ کہا جائے کہ اس وقت امریکہ اپنے تقریباً 400 فوجیوں کی جانوں کے حوالے سے شدید دباؤ میں ہے تو یہ غلط نہ ہوگا۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا ایک بیان بین الاقوامی میڈیا میں نمایاں ہے، جس میں انہوں نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں تعینات امریکہ کے لگ بھگ 400 فوجیوں کی زندگیاں ایک ایسے میزائل سسٹم سے خطرے میں ہیں جسے نہ صرف اسرائیل کے لیے تباہ کن قرار دیا جا رہا ہے بلکہ جسے انٹرسیپٹ کرنا بھی ممکن نہیں۔ اس میزائل سسٹم کا نام “حاج قاسم سلیمانی” بتایا جاتا ہے۔
یہ میزائل سسٹم ایران کے شہید جنرل قاسم سلیمانی کے نام سے منسوب ہے اور اس میں ایسی جدید صلاحیتیں موجود ہیں جنہیں روکنا امریکہ اور اسرائیل کے لیے ایک بڑا چیلنج سمجھا جا رہا ہے۔
یہ ایک بیلسٹک میزائل سسٹم ہے جس کی رینج تقریباً 1600 کلومیٹر بتائی جاتی ہے، جو اسرائیل سمیت پورے مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ میں مصر تک کے علاقوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اس میزائل کی رفتار مارک 12 تک بتائی جاتی ہے، یعنی یہ آواز سے 12 گنا زیادہ رفتار سے سفر کر سکتا ہے۔ دورانِ پرواز یہ میزائل مختلف حصوں میں تقسیم ہو سکتا ہے اور منیورایبل ہونے کی وجہ سے اپنا راستہ بھی تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس سے اسے روکنا مزید مشکل ہو جاتا ہے۔
یہ میزائل تقریباً 500 کلوگرام وزنی وار ہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے، جو روایتی یا ایٹمی نوعیت کا ہو سکتا ہے۔بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل کے پاس اس میزائل سسٹم کا کوئی مؤثر دفاعی جواب موجود نہیں۔
اسی تناظر میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی جانب سے ڈونلڈ ٹرمپ سے رابطے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں تاکہ اس ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے،تاہم رپورٹس کے مطابق ایران اپنی عسکری ٹیکنالوجی میں تیزی سے پیش رفت کر رہا ہے۔












