لاہور( پاک ترک نیوز) صرف پانچ منٹ کے لیے موبائل اٹھایا ،پھر ایک ریل، دوسری ویڈیو، تیسری پوسٹ ۔۔اور دیکھتے ہی دیکھتے دو گھنٹے گزر گئے۔اگر آپ کا بھی یہی معمول ہے.تو خبردار!ہو سکتا ہے آپ صرف وقت ہی نہیں، اپنی ذہنی صحت بھی کھو رہے ہوں۔صبح آنکھ کھلتے ہی موبائل،دفتر میں موبائل،کھانے کے دوران بھی موبائل.،اور سونے سے پہلے بھی موبائل۔۔
اگر آپ بھی دن بھر موبائل اسکرولنگ کی عادت کا شکار ہیں تو جان لیجیے کہ یہ عادت آپ کے دماغ پر منفی اثرات مرتب کر رہی ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ موبائل فون کا زائد استعمال ذہنی مسائل کو جنم دے رہا ہے۔ ڈپریشن، ذہنی تناؤ، غصے اور عدم برداشت جیسے مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے۔
آج کی دنیا میں فون ہماری ضرورت ضرور بن چکا ہے، لیکن جب یہی ضرورت عادت اور پھر لت میں بدل جائے تو اس کی قیمت دماغ اور جسم دونوں کو چکانا پڑتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مسلسل اسکرولنگ دماغ کو ہر لمحہ نئی معلومات اور نئی ویڈیوز کی عادت ڈال دیتی ہے۔جس کے نتیجے میں چند منٹ بھی موبائل کے بغیر گزارنا مشکل لگنے لگتا ہے،توجہ بٹ جاتی ہے،چھوٹی چھوٹی باتوں پر غصہ آنے لگتا ہے،اور برداشت کا دائرہ سکڑنے لگتا ہے۔
سوشل میڈیا پر دوسروں کی خوشیاں،مہنگی گاڑیاں،شاندار چھٹیاں اور فلٹر شدہ زندگی دیکھ کر بہت سے نوجوان لاشعوری طور پر اپنی زندگی کا موازنہ کرنے لگتے ہیں۔ماہرین نفسیات کہتے ہیں کہ یہی موازنہ احساسِ کمتری، خود اعتمادی میں کمی، اینگزائٹی اور ڈپریشن کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔
موبائل فون کے زیادہ استعمال سے صرف ذہنی صحت ہی نہیں،موبائل کی لت جسم کو بھی متاثر کرتی ہے۔،۔گھنٹوں ایک ہی پوزیشن میں بیٹھنے سے گردن اور کمر کا درد شروع ہو جاتا ہےمسلسل اسکرین دیکھنے سے آنکھوں کی تھکن ہوتی ہے اور رات گئے تک فون استعمال کرنے سے نیند کا نظام بھی متاثر ہونے لگتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: واٹس ایپ کا نیا فیچر،اب کسی کو نمبر دینے کی ضرورت نہیں
ماہرین نفسیات کا کہنا ہیکہ موبائل کا زیادہ استعمال ذہنی تناؤ، تنہائی، خود اعتمادی میں کمی اور احساس کمتری میں مبتلا کردیتاہے۔ ڈپریشن،اینگزائٹی، ڈیسمورفیا،نیند کی کمی، گردن میں درد، بینائی کی کمزوری جیسے امراض بڑھ رہے ہیں
ماہرین کے مطابق موبائل فون کا استعمال ضرورت تک محدود رکھیں، روزانہ کچھ وقت سوشل میڈیا سے دور رہیں، ورزش کریں، اہلِ خانہ اور دوستوں کے ساتھ وقت گزاریں، کیونکہ یہی عادات ذہنی دباؤ کم کرنے اور صحت مند زندگی گزارنے میں مدد دیتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آپ بار بار بلاوجہ موبائل چیک کرتے ہیں،کھانا، پڑھائی یا گفتگو چھوڑ کر نوٹیفکیشن دیکھتے ہیں،یا فون نہ ملنے پر بےچینی محسوس کرتے ہیں.تو یہ اس بات کی علامت ہو سکتی ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ اپنی ڈیجیٹل عادتوں پر نظرثانی کی جائے۔
موبائل فون دشمن نہیں لیکن اگر وہ آپ کے وقت، نیند، سکون اور رشتوں پر قبضہ کرنے لگے .تو سمجھ لیجیے کہ اب فون آپ کے ہاتھ میں نہیں.بلکہ آپ فون کے ہاتھ میں ہیں۔ اس لیےکبھی موبائل کو بھی آرام دیجیے اور اپنے دماغ کو بھی۔












